خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 506 of 530

خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 506

خطبات ناصر جلد نہم خطبہ جمعہ ۲۱ رمئی ۱۹۸۲ء تو مَنْ ذَا الَّذِی کیا کوئی ہے؟ یہ نعرہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے لگایا۔اور یہ ایک نعرہ ہے جس کا ایک پہلو یہ ہے کہ لوگ مالی میدان میں خدمت کا شوق بھول چکے ہیں اور ان میں شوق پیدا کیا گیا اور دوسرا پہلو یہ ہے، ( جو آگے اگلی باتیں میں بتاؤں گا ان میں وہ نمایاں ہوتا ہے ) دوسری بات اس میں یہ کی کہ مالی قربانی کرنے والے کیا ایسے ہیں کہ جو اپنے مال کا ایک اچھا ٹکڑا کاٹ کر دیں؟ يُقْرِضُ اللهَ قَرْضًا حَسَنًا پھر جیسا کہ میں نے بتایا کہ وہ جو دو، دو آنے دینے والے تھے ان میں سینکڑوں ہزاروں نے ، جب جائیداد بنائی تو اس کا ایک حصہ دے دیا اور ایسے بھی ہیں جنہوں نے ، جب ضرورت پڑی تو قریباً سارا مال ہی پیش کر دیا۔تو اچھا ٹکڑا کاٹ کر دیا۔دو آنے سے وسعت پیدا ہوئی اور ہزاروں لاکھوں کی رقم ایک وقت میں دینے والے پیدا ہو گئے۔یعنی اب جماعت احمدیہ کے اخلاق اور کردار کا یہ حال ہے روحانی ترقی کے نتیجہ میں کہ صد سالہ جو بلی میں بعض دوستوں نے لاکھوں میں وعدے لکھوائے ہیں۔پھیلا ہوا ہے وہ لیکن بعض ایسے بھی ہیں جنہوں نے وعدہ کیا ہے ہم ہر سال ایک لاکھ روپیہ دیتے چلے جائیں گے۔تو انہوں نے یا ان کے آباء نے آنوں میں قربانی دی خدا تعالیٰ نے دولت کے پہاڑ ان کے قدموں میں لا کے رکھ دیئے اور دل میں جو جذ بہ تھا قربانی کا اس میں اور جوش پیدا کیا اور اگلی نسل نے آنوں کی قربانی کے مقابلے میں لاکھوں کی قربانی دینی شروع کر دی۔تیسری بات اللہ تعالیٰ یہ کہتا ہے کہ اگر تم اپنے مال کا ایک اچھا ٹکڑا نیک نیتی اور خلوص کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے اس کے حضور پیش کر دو گے فَيُطْعِفَهُ لَهُ أَضْعَافًا كثيرة تو اللہ تعالیٰ اس کے لئے بہت بہت بڑھائے گا۔آپ میں سے جو مشاہدہ کرنے والے ہیں اور غور اور فکر اور دور بینی سے اپنے ماحول کا جائزہ لینے والے ہیں ان کے سامنے بہت ساری ایسی مثالیں آئیں گی کہ جو أَضْعَافًا كَثِيرَةٌ۔بہت بہت بڑھا کر پیش کرنے والے ہیں۔ابھی جو اٹلی اور برازیل کی مساجد کے لئے خدام الاحمدیہ چاہتی تھی کہ ہمیں اجازت دی جائے ہم قربانی پیش کریں، تو لنڈن کے ایک احمدی نوجوان نے کئی سو پونڈ اپنے بنک سے قرض لے کر دے دیئے۔پہلے وعدہ لکھایا ، پھر اس کو خیال آیا کہ وعدے سے تو کچھ نہیں بننا، بنک سے کہا