خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 507 of 530

خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 507

خطبات ناصر جلد نہم خطبه جمعه ۲۱ رمئی ۱۹۸۲ء مجھے قرض دے دو۔اس کا لین دین بنک والوں سے اچھا تھا، انہوں نے قرض دے دیا اور ( صحیح مجھے یاد نہیں) شاید ایک ہفتہ ہی گزرا تھا ( بہت کم وقت گزرا تھا) کہ اسی بنک کی طرف سے اس کو چٹھی آئی کہ پچھلے سال ہم نے تمہارا انکم ٹیکس ادا کرنے کے لئے جو رقوم کائی تھیں غلطی سے زائد کاٹ لی تھیں اور یہ اب ہم تمہیں واپس کر رہے ہیں اور بالکل وہ رقم جو اس نے چندے میں دے دی تھی اس کا چیک دیا۔تو اس طرح اللہ تعالیٰ نے ایک چھپی ہوئی دولت جو تھی وہ اس کو لوٹا دی اور عملاً ذہنی لحاظ سے اس کو کوئی کوفت یا تکلیف نہیں بھی ہوئی۔یہ بھی تکلیف نہیں اللہ تعالیٰ نے پہنچائی کہ میں نے آہستہ آہستہ بنک کو جو قرض واپس کرنا ہے وہ کیسے کروں گا ؟ بہت ساری جگہ لمبا سلسلہ چل پڑتا ہے قرض کی ادائیگی میں اور وہ دے دیا۔بہت ساری مثالیں ہیں ایسی۔تو تیسری بات اللہ تعالیٰ یہ فرماتا ہے کہ جو شخص اپنے مال کا ایک اچھا ٹکڑا کاٹ کر خدا تعالیٰ کے حضور پیش کر دیتا ہے خدا تعالیٰ فَيُطْعِفَهُ لَهُ أَضْعَافًا كَثِيرَةٌ ( یہ میں اب ترجمہ نہیں کر رہا، مفہوم بیان کر رہا ہوں) بہت بہت اضافہ کر کے اس کا مال اسے لوٹا تا ہے۔یہ أَضْعَافًا كَثِيرَةً دورنگ میں سامنے آتا ہے۔ایک اس دنیا میں ، اس زندگی میں اور ایک مرنے کے بعد۔مرنے کے بعد جو فدائیت اور ایثار خدا تعالیٰ قبول کر لیتا ہے اس کا بدلہ جو ہے وہ تو ساری دنیا بھی اس کی قیمت ادا نہیں کر سکتی۔اتنی دولت ہے وہ ، اتنی قیمت ہے اس عطا کی۔پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ( پہلے تو مومنوں کو کہا نا مَنْ ذَا الَّذِی کون میرے حضور قربانی پیش کرے گا قَرْضًا حَسَنًا کی شکل میں۔پھر بشارت دیتا ہے کہ میں اسے بڑھاؤں گا۔جیسا کہ میں نے ذرا مختصراً تفصیل سے بتایا یعنی اختصار بھی ہے تھوڑی تفصیل بھی ہے ) کہ اللہ کی سنت ہے۔يَقْبِضُ وَ يَبطُ کہ اس دنیا میں جو اموال خدا بندوں کو دیتا ہے وہ لیتا ہے، دیتا بھی ہے اور اسے بڑھاتا بھی ہے۔یہاں لیتا بھی ہے ( یہ عربی کا محاورہ ہے، قرآن کریم کی بہت ساری آیات سے بھی یہ ہمیں پتہ لگتا ہے ) کے معنی ہم یہ کریں گے۔وہ لیتا بھی ہے اور کبھی نہیں بھی لیتا“۔بعض دوسری جگہ اس کی وضاحت کی گئی ہے کہ جو بس دنیا کے ہو رہے۔اللہ تعالیٰ کہتا ہے اچھا! پھر دنیا لے لو اور ان کو انذار یہ ہے کہ آخری زندگی میں پھر جو تمہارا حال ہو گا خدا کی پناہ۔پھر