خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 505 of 530

خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 505

خطبات ناصر جلد نهم خطبه جمعه ۲۱ رمئی ۱۹۸۲ء وقت تو جن کی پرستش کرتے تھے، بتوں کی رؤسائے مکہ، ان کے لئے بھی خرچ نہیں کرتے تھے، ان پر بلکہ ان کی وجہ سے پیسے بناتے تھے اور آمد پیدا کرتے تھے۔وہ دولت کمانے کا ذریعہ تھے اس دنیا میں۔وہ اُخروی زندگی میں کچھ حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں تھے اور یہ اعلان، نبی کریم صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی سنت کی اتباع میں اُمت محمدیہ کے جو چودہ سو سال گزرے ہیں اس میں تمام خدا تعالیٰ کے مقرب مصلح اور ولی جو ہیں، یہ آواز دیتے رہے ہیں کیونکہ مختلف خطہ ہائے ارض میں ایک چکر کے اندر مسلمانوں کے گروہ غافل ہوتے رہے۔خدا تعالیٰ کی راہ میں مالی قربانی کے میدان میں اور ان کو یہی کہا گیا۔مَنْ ذَا الَّذِمی کیا کوئی ہے جو اللہ کی راہ میں قربانی دینے والا ہو؟ تاریخ کی باتیں تو دور کی باتیں ہیں، ہماری اپنی زندگی کی ابتدا میں جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے ساری دنیا مین اسلام کو غالب کرنے کے منصوبہ پر عمل پیرا ہونے کے لئے ایک جماعت کو قائم کیا تو اس وقت جو ہماری شروع کی تاریخ ہے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں دو آنے پیش کرنا بھی بڑا بارمحسوس کرتا تھا، اس وقت کا ایک مسلمان، ایمان تھا، دعوئی تھا، لیکن بہت سارے ایسے حالات پیدا ہو چکے تھے کہ وہ مالی قربانی کو بالکل بھول چکا تھا۔اس واسطے ہمیں نظر آتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جو آپ پر شروع میں ایمان لائے اور انہوں نے مالی قربانی میں حصہ لینا شروع کیا تو جس نے دو آنے دیئے یا چار آنے دیئے ، ان کے نام بھی اپنی کتابوں میں لکھ کے قیامت تک ایک دعا حاصل کرنے کی زندگی انہیں بخش دی۔ایک خاندان ایک اور ضمن میں میرے سامنے آیا۔ایک شخص اپنے اخلاص سے لنگر خانے میں کام کرتا تھا باورچی کا اور اسکو تین روپے تنخواہ ملتی تھی مہینے کی اورکھانا تونگر میں ملتاہی ہے ہر ایک کو، اس کا حق ہے اور تین روپے کے اوپر اگر وصیت بھی کی ہو تو پانچ آنے سے کچھ کم رقم بنتی ہے۔ماہانہ۔یہ قربانی تھی لیکن اصل قربانی ی تھی کہ اپنی زندگی ایک طرح وقف کی ہوئی تھی اور اللہ تعالی نے اس پر یہ فضل کیا کہ اس کے بچوں میں سے پانچ کے متعلق تو مجھے علم ہے کہ ہر ایک آٹھ ، دس ہزار روپیہ ماہانہ کمانے لگ گیا ہے۔جس کا باپ تین روپے سے خدمتِ سلسلہ اور خدمت مہدی معہود علیہ الصلوۃ والسلام کر رہا تھا۔