خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 343
خطبات ناصر جلد نهم ۳۴۳ خطبہ جمعہ ۲۷ / نومبر ۱۹۸۱ء میں واقعات جو بتاتے ہیں کہ کس قدر پیار کرنے لگے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پیار کرنے والے حضرت بلال۔سید نا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں ان خوش قسمتوں نے اس کی لقا کا درجہ حاصل کیا جنہوں نے اس کی راہ میں مصیبتیں اٹھا ئیں۔اس بادشاہ کے لئے انہوں نے اپنی عزت برباد کر دی۔دل ہاتھ سے گیا اور ٹوپی سر سے گری لیکن اس بادشاہ نے انہیں زمین سے اٹھایا اور آسمان کے ستاروں سے بھی وہ انہیں آگے لے گیا۔آپ فرماتے ہیں۔انہوں نے اپنی سب بنیاد، ( زندگی کی بنیاد کا ہر پہلو جو تھا نا ) بر باد کر دی یہاں تک کہ فرشتے بھی ان کی وفاداری پر حیران ہوئے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے ان میں یہ اعلان کیا کہ تم میں سے جو کوئی عاجزی اور انکسای کی راہوں کو اختیار کرے گا اللہ تعالیٰ اسے ساتویں آسمان کی رفعتوں تک پہنچا دے گا۔یہ اس عاجزی کا انعام ہے، ان راہوں پر چل کر جو خدا تعالیٰ نے بیان کیں اور جس کی ایک جھلک حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ان اشعار میں ہے ان راہوں پر چل کر خدا کے حضور جو عاجزانہ زندگی گزاری انہوں نے خدا نے جو بہت ہی پیار کرنے والا ہے اس قدر پیار کا سلوک کیا کہ میں نے بہت غور کیا ، تاریخ پڑھی اُمت محمدیہ کے لئے جن رفعتوں کے سامان پیدا کئے گئے ہیں آج تک آدم کی اولاد میں سے کسی اور کے لئے وہ سامان پیدا نہ ہوئے۔پس عاجزانہ راہوں کو اختیار کرو اور خدا میں ہو کر، خدا میں فنا ہو کر ایک نئی زندگی پاؤ۔خدا کے لئے عرب تیں قربان کر کے اِنَّ الْعِزَّةَ لِلَّهِ جَمِيعًا (النساء :۱۴۰) جو عزت کا سر چشمہ ہے اس سے عزت حاصل کرو۔دُنیوی عزتیں تو دنیا کی ہر دوسری شے کی طرح آنی جانی ہیں، ہم اپنی زندگیوں میں اس کے نظارے دیکھتے ہیں، ہم نے دیکھے ہیں، آگے بھی دیکھتے رہیں گے زندہ رہنے والے لیکن جو خدا کا ہو جائے اور اس سے وفا کا جو اس نے عہد باندھا ہے اس کو پورا کرنے والا ہو، اس کا دامن پکڑے اور دنیا کی کوئی طاقت اس دامن کو چھڑوا نہ سکے۔اس کو پھر اس خدا کےسواحسبنا اللهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ (ال عمران : ۱۷۴) اور کسی اور کی ضرورت نہیں رہتی۔ہر چیز اس کے لئے