خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 342 of 530

خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 342

خطبات ناصر جلد نهم ۳۴۲ خطبہ جمعہ ۲۷ نومبر ۱۹۸۱ء تو سوائے اس کے کوئی چارہ نہیں کہ انسان اپنے رب کریم کے پاؤں میں عاجزی اور انکساری کے ساتھ کوٹنا شروع کرے اور تضرع کے ساتھ اس سے دعائیں مانگے تب خدا تعالیٰ اس کو پیار کے ساتھ اوپر اٹھائے گا اور اس سے وہ سلوک کرے گا جو وہ اپنے پیاروں سے کرتا ہے۔آپ فرماتے ہیں۔دلبر کے چہرہ پر کوئی پردہ نہیں ہے۔تو اپنے آگے سے ، اپنی آنکھوں کے سامنے سے خودی کا پردہ اٹھا۔جب تیرے سامنے سے، تیری آنکھوں کے سامنے سے خودی کا پردہ اٹھ جائے گا تیرے محبوب اللہ کا چہرہ تجھے نظر آنے لگ جائے گا۔آپ فرماتے ہیں۔اں سعیداں لقائے او دیدند کہ بلایا برائے او دیدند ان خوش قسمتوں نے اللہ تعالیٰ کی لقا کا درجہ حاصل کیا جنہوں نے اس کی راہ میں مصیبتیں اٹھا ئیں اور مصیبتیں اٹھانے کی مثال بلال ہیں ہمارے سامنے، جنہوں نے مگی زندگی میں (اسلام لانے کے بعد ) ظالم آقاؤں کے ہاتھ سے اس قدر مصیبتیں اٹھا ئیں کہ آج بھی ہم جب وہ روئداد پڑھتے ہیں ہماری آنکھوں میں آنسو آ جاتے ہیں۔ایک اس کا (حضرت بلال کے حالات پر مشتمل کتاب۔ناقل ) حصہ چھپ چکا ہے دوسرا چھپنے والا ہے۔میں سمجھتا ہوں ہر احمدی کو ان کی زندگی کے حالات پڑھنے چاہئیں۔ایک اللہ تعالیٰ نے ان کو اس زندگی میں، اس جہان میں یہ رفعت عطا کی کہ وہ سردار جوان کو حقیر جانتے تھے ، وہ سردار جو ان کو ذلیل سمجھ کے ان پر کوڑے برسایا کرتے تھے، تپتی ریت پر لٹا کر گرم پتھر رکھ کے کوڑے برساتے تھے ان کے اوپر ، فتح مکہ کے دن اللہ تعالیٰ نے ان کا بدلہ اس طرح لیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو بلال کے جھنڈے تلے آجائے گا اس کو پناہ مل جائے گی۔ان کو وہ عزت عطا ہوئی کہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم سے جو قریب تر گروہ تھا صحابہ کا ، بنے خلفاء بعد میں بھی حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ، حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ، وہ بلال کو ( رضی اللہ عنہ ) سیدنا بلال کہتے تھے۔ان دنیا کے کتوں کا جو غلام تھا وہ خدا تعالیٰ پر جان نثار کرنے والوں کا سردار بنادیا گیا۔اور بھی ہیں وہ ان کی زندگی