خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 341
خطبات ناصر جلد نهم ۳۴۱ خطبہ جمعہ ۲۷ نومبر ۱۹۸۱ء اور جب تک تو اس کے چہرہ کا دیوانہ نہ بن جائے۔تا نہ خاکت شود بسان غبار جب تک تیری خاک غبار کی طرح نہ ہو جائے اور جب تک تیرے غبار میں سے خون نہ ٹکنے لگے، جب تک تیرا خون کسی کی خاطر نہ بہے اور جب تک تیری جان کسی پر قربان نہ ہو جائے تب تک تجھے گوئے جاناں کا راستہ کیونکر ملے اور اس دست گاہ کی طرف سے تجھے آواز کیونکر آئے۔اس قدر لالچ ، حرص، تکبر اور غرور کے ساتھ ، کیا وجہ ہے کہ گوئے جاناں سے تو محروم نہ رہے یعنی حرص بھی ہو ، لالچ بھی ہو، اباء بھی ہو، تکبر بھی ہو اور غرور بھی ہو تو پھر کیسے توسمجھتا ہے کہ محرومی کی یہ دیوار گر جائے اور خدا تعالیٰ کا دیدار تجھے نصیب ہو جائے۔آپ فرماتے ہیں:۔وہاں ڈھونڈ جہاں زور باقی نہیں رہا۔یعنی اگر تیرے نفس میں اپنے آپ کو کچھ سمجھتا ہے، سمجھتا ہے اپنے زور بازو سے کچھ حاصل کر سکتا ہے تو نہیں ملے گا تجھے۔وہاں ڈھونڈ جہاں زور باقی نہیں رہا۔خود نمائی ، تکبر اور جوش باقی نہیں رہا۔وہاں ڈھونڈ جہاں موت آ گئی ہے۔جب خزاں چلی جاتی ہے تو پھل اور پتوں کا موسم آتا ہے۔زبانی دعویٰ مُردار کی طرح ہوتا ہے۔آپ فرماتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کو پانے کے لئے ، اپنی بزرگی کے ، اپنی طہارت کے دعوے، اپنی ایثار کے ، خدا کے لئے اپنے عشق کے دعوے جو ہیں بے معنی ہیں۔زبانی دعوے مُردار کی طرح ہوتے ہیں۔گتوں کے سوا کوئی ان کو نہیں پوچھتا۔مُردار پر کتے ہی جاتے ہیں نا )۔جب تک تو فنا نہیں ہوتا تب تک مُردار سے بھی بدتر ہے اور فضلِ خُدا تجھ سے بہت دور ہے۔جب تک تیرا سر عاجزی کے ساتھ نیچا نہ ہو گا تب تک تیرے نفس کے سامنے سے دوری اور مہجوری کا پردہ نہ ہٹے گا۔جب تک تیرے سب بال و پر نہ جھڑ جائیں گے تب تک اس راہ میں تیرا اُڑ نا محال ہے۔اس کے معنی دراصل یہ ہیں ( گہرائی میں جائیں) کہ جب تک بال و پر رہیں تو انسان سمجھتا ہے میں اپنے بال و پر کے زور سے اپنی منزلِ مقصود تک پہنچ سکتا ہوں لیکن جب بال و پر جھڑ جائیں