خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 340 of 530

خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 340

خطبات ناصر جلد نهم ۳۴۰ خطبہ جمعہ ۲۷ / نومبر ۱۹۸۱ء دلبرا اور دلآرام پر قربان اور ننگ و ناموس سے بالکل بے پرواہ ہوجاتا ہے ایسا شخص۔پر از عشق و تہی زہر آزے قصہ کوتاه کرد آوازی وہ محبت الہی سے بھرا رہتا ہے اور دنیوی حرص اور لالچ سے خالی ہوتا ہے۔ایک ہی آواز نے اس کا کام تمام کر دیا۔یعنی خدا تعالیٰ کے پیار کا جو پہلا جلوہ اس پر نازل ہوا ، اسی نے اس کے وجود کو جوڈ نیوی وجود تھا اس کو جلا کے راکھ کر دیا اور ایک روحانی زندگی اسے عطا کر دی۔آپ فرماتے ہیں۔قدم خود زده براه عدم گم بیادش ز فرق تا بقدم فنا کے راستے پر چل پڑا اور اس کی یاد میں سر سے پیر تک گم ہو گیا۔میں زیادہ تر ترجمہ پڑھتا جاؤں گا )۔دلبر کا ذکر اس کی غذا ہو گیا بلکہ سارا دلبر اس کے لئے ہو گیا۔اس نے سوائے دلدار کے اپنی ہر خواہش کو جلا دیا۔ایک ہی آرزو دل میں رہ گئی کہ خُدا مجھ سے راضی ہو جائے خُدا مجھ سے مل جائے ، خدا سے میرا زندہ تعلق پیدا ہو جائے۔اس کے علاوہ ہر خواہش کو جلا دیا۔اور اللہ جو اس کا محبوب ہے اس کے سوا ہر چیز کی طرف سے آنکھ بند کر لی۔ایک چہرہ پر جان و دل فدا کر دیا اور اس کو پانے کے لئے اور اس کے وصل کو اپنا خاص مدعا اور مقصود بنالیا۔آپ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اس وقت ہم کلام ہوتا ہے جب یہ کیفیت پیدا ہو ورنہ ہم کلام نہیں ہوتا۔جب تو ہم سے خدا کی وحی سئے تو یہ نہ کہ کہ وہ ہمیں کیوں نہیں ملی۔خدا نے صرف آپ کو کیوں چن لیا؟ آپ فرماتے ہیں جب تک تیرے دل کا کام تمام نہ ہو جائے کس طرح تیرے محبوب کا پیغام تیرے پاس پہنچے۔یعنی تو تو سر گرداں پھرے غیروں کے کوچہ میں اور وہ جو بادشاہِ ہر دو جہاں ہے وہ تجھ سے ہم کلام پھر کیسے ہو۔جب تک تو اپنی نفسانیت سے باہر نہ آئے ، نفسانیت کا چولہا تار کے باہر نہ پھینک دے