خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 331 of 530

خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 331

خطبات ناصر جلد نهم ۳۳۱ خطبه جمعه ۲۰ / نومبر ۱۹۸۱ء تو ایک معنی دعا إلى الله کے یہ ہیں کہ توحید خالص کی طرف وہ بلاتا ہے جس کے لئے ضروری ہے کہ اس کا اپنا عقیدہ ( مَنْ اَحْسَنُ قَولاً میں یہ بھی آیا تھا نا، اس کی میں وضاحت کر رہا ہوں ) بھی پاک ہو ، صحیح ہو ، سچا ہو ، قرآن کریم کے مطابق ہو ، اللہ تعالیٰ کی قدوسیت کے عین مطابق ہو اور اس کی طرف وہ بلا رہا ہو۔صرف یہ کہہ دینا یا یہ دُنیا کو آواز دینا کہ خدا کی طرف آؤ، کافی نہیں کیوں کہ ہر انسان کہے گا کس قسم کے خدا کی طرف تم بلاتے ہو۔کیا اس خدا کے تصور کی طرف جو بعض انسانوں نے اپنے ذہن میں یہ رکھا کہ وہ ظالم ہے۔کیا اس خدا کی طرف بلاتے ہو کہ بعض انسانوں کے ذہنوں میں یہ ہے کہ وہ لڑکوں کو پیدا کرتا ہے اور لڑکیوں کو پیدا کرنے والا کوئی اور ہے کیا اس خدا کی طرف جو بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ جزا دیتا ہے، سزا دینے والا کوئی اور ہے کس خدا کی طرف بلاتے ہو تم ؟ اس خدا کی طرف جو قرآن کریم نے ہمارے سامنے پیش کیا، اس تصور کو اور اس کی بنیاد یہ ہے کہ ہر عیب سے پاک اور تمام صفاتِ حسنہ سے متصف ہے۔پھر بیسیوں آگے تفاصیل ہیں جو قرآن کریم میں بیان کی گئی ہیں۔اور دوسرے دعا إلى الله کے یہ معنی ہیں کہ اس بات کی طرف بلاتے ہیں کہ اگر اپنی خیر چاہتے ہو اس معنی میں کہ اگر یہ چاہتے ہو کہ تم دین اور دنیا میں ترقی کرو تو اس اللہ کی طرف آؤ جو حقیقی رب ہے کہ اس کے علاوہ دنیا کی کوئی ہستی ربوبیت نہیں کر سکتی۔اس نے انسان کو پیدا کیا اور وعدہ دیا۔چھوڑا نہیں۔ہر فرد ہے جو بنی نوع انسان کا ، اس میں بہت سی قو تیں اور استعدادیں ہمیں نظر آتی ہیں۔کوئی شخص یہ نہیں کہہ سکتا کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا کیا بڑی قوتیں اور استعدادیں دیں اور پھر چھوڑ دیا کہ جاؤ اور اپنے زور بازو اور اپنی عقل سے دین و دنیا کی ترقیات کو حاصل کرو۔اسلام ہمیں یہ نہیں بتاتا۔اسلام یہ کہتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے تمہیں پیدا کیا اور ہر قسم کی استعداد میں اور صلاحیتیں تمہیں عطا کیں لیکن تم ان استعدادوں اور صلاحیتوں کی صحیح نشو ونما اور صحیح راہوں پر چل کے جونشو و نما ہوسکتی ہے وہ خود نہیں کر سکتے جب تک تمہارا زندہ تعلق ربوبیت رب کریم سے نہ ہو ، جب تک وہ خود تمہارا رب تمہاری ربوبیت کرنے والا نہ ہو۔تو بلاتے ہیں اس طرف کہ اگر تم ترقی کرنا چاہتے ہو ، دینی دنیوی خوشحالی چاہتے ہو، دینی دنیوی عزتیں چاہتے ہو، دینی دُنیوی