خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 332 of 530

خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 332

خطبات ناصر جلد نهم ۳۳۲ خطبه جمعه ۲۰ / نومبر ۱۹۸۱ء سکون اور آرام چاہتے ہو تو اپنے رب کی طرف آؤ۔وہ تمہیں دے گا۔اور ربوبیت کے لئے اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں یہ بتایا کہ ربوبیت کے لئے اس نے ہدایت نازل کی۔ہدایت نازل کی آدم کے ذریعہ سے بھی اس وقت کے لوگوں کے لئے۔ہر نبی جو شریعت لایا وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے انسان کی بھلائی کے لئے ہدایت نامہ لے کر آیا اور وہ جو نبی کامل تھا وہ کامل شریعت لے کے آگیا، محمد صلی اللہ علیہ وسلم۔اب اس ہدایت کے دائرہ سے باہر کھڑے ہو کر تم اس رب کی ربوبیت سے فائدہ نہیں اٹھا سکتے جس رب نے اس ہدایت کو تمہاری بھلائی کے لئے نازل کیا ہے۔یعنی اگر تم اس کا کہنا نہیں مانو گے ، اس کی بتائی ہوئی راہوں پر نہیں چلو گے، ان راہوں پر چل کر اس سے زندہ تعلق قائم نہیں کرو گے اور ہر آن اور ہر لحظہ اس سے برکتیں حاصل کر کے اپنی نشو ونما اور سکون اور راحت کے سامان پیدا نہیں کرو گے تو ہدایت اپنی جگہ رہے گی ، وہ رب اپنی جگہ رہے گا اور تمہاری محرومیت اپنی جگہ رہے گی۔پھر بھی تم محروم رہو گے۔تو دعا إلی اللہ سب سے احسن قول ،عقیدہ اور عمل اس شخص کا ہے جو بلاتا ہے اللہ تعالیٰ کی صحیح صفات جو قرآن کریم نے بیان کی ہیں اور اس کی ذات کی عظمت کی طرف لوگوں کو صحیح تو حید ، خالص تو حید وہ قائم کرنا چاہتا ہے۔جس کے لئے اس نے ، اپنی بھلائی کے لئے بھی اور دوسروں کی بھلائی کے لئے بھی ، اللہ تعالیٰ کی معرفت حاصل کی۔اور وہ بلاتا ہے ( دعا إلى الله ( لوگوں کو اس امر کی طرف کہ خدا تعالیٰ کے کامل فرمانبردار مسلم بن جاؤ۔مسلم کے معنی ہی ہیں کامل فرمانبردار بن جاؤ۔اور کامل فرمانبرداری کس کی؟ قُلْ إِنَّ هُدَى اللهِ هُوَ الْهُدی (الانعام : ۷۲) اس ہدایت کی کامل اطاعت کرو، ہر حکم کی جو اللہ تعالیٰ نے تمہاری بھلائی کے لئے نازل کیا ہے۔ہر اس چیز سے بچو جس کے بچنے کا اس نے تمہیں کہا ہے سختی کے ساتھ۔یہ نہیں کر نہ کر نوا ہی جو ہیں۔اسی لئے سورۃ الا انعام میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔قُلْ إِنَّ هُدَى اللهِ هُوَ الْهُدی رہنمائی۔رہنمائی کیوں ہوتی ہے؟ رہنمائی ہوتی ہے۔بھولا بھٹکا ہے اس کو ہدایت کی ضرورت ہے۔اس کو رہنمائی کی