خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 330
خطبات ناصر جلد نهم ۳۳۰ خطبه جمعه ۲۰ نومبر ۱۹۸۱ء جس کا تعلق دل کے ساتھ ہے اور عمل صالح بھی اسی کے مطابق ہوں جن کا تعلق جوارح کے ساتھ ہے۔جب زبان کے اعلان کے ساتھ دل کا اعتقاد اور اس کے مطابق عمل ہو تو اس معنی میں قول کا لفظ استعمال ہوتا ہے اور یہاں اسی معنی میں قول کا لفظ استعمال ہوا ہے۔اللہ تعالیٰ نے یہاں یہ اعلان کیا کہ سب سے اچھا قول وہ ہے جو زبان ، عقیدہ اور عمل سے ہو کہ جس سے دعا إلی اللہ ایسا قائل یعنی ایسی بات کہنے والا جو اس کے مطابق عقیدہ بھی رکھتا ہے، عمل بھی کرتا ہے دعا إلى الله اللہ کی طرف بلاتا ہے یا دعوت دیتا ہے۔اللہ کی طرف بلانا۔دعا الى اللہ جو ہے اس کے دو اصولی معنی ہیں۔ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ کی تو حید کو قائم کرنے کے لئے لوگوں کو آواز دیتا ہے کہ ہر قسم کے شرک کو چھوڑو اور اپنے رب کریم کی طرف واپس آؤ۔جس کے لئے ضروری ہے کہ ایسا شخص عرفانِ ذات وصفات باری رکھتا ہو یعنی جب تک کوئی شخص خود اللہ تعالیٰ کی صفات کو پہچانتا نہ ہو اور اس کی صفات کی شناخت نہ رکھتا ہو کسی دوسرے کو اللہ تعالیٰ کی طرف کیسے بلا سکتا ہے۔اس کے نتیجے میں بہت سی خرابیاں بھی پیدا ہو گئیں۔مثلاً اللہ تعالیٰ کی ذات ( وہ توحید خالص جو اسلام قائم کرنا چاہتا ہے ) جو ہے وہ ہر قسم کی برائی اور نقص اور کمزوری سے پاک ہے۔یعنی ایک صفات اس کی ہیں ایسی جن سے اس کی سبوحیت اور نقدس ظاہر ہوتا ہے۔جس سے ہمیں پتہ لگتا ہے کہ اس قسم کے جلوے خدا تعالیٰ کی ذات سے ظاہر نہیں ہو سکتے کیونکہ وہ پاک ہے مثلاً وہ جھوٹ نہیں بول سکتا۔پاک ہے وہ۔اس کو بھی قرآن کریم نے بڑا کھول کے بیان کیا ہے اور میں سوچ رہا تھا تو بہت سارے پہلو اس کے قرآن کریم میں مجھے نظر آئے وہ کسی اور خطبے میں میں بیان کروں گا۔وہ بھی بڑا دلچسپ مضمون بنتا ہے۔اللہ تعالیٰ کی ذات کو پہچاننا اور شناخت کرنا اس معنی میں ( دو چیزیں ہیں وہ بھی ساتھ بیان کر دوں ) بھی کہ وہ تمام صفات حسنہ سے متصف ہے اور اس معنی میں بھی کہ اس کی ذات ہر قسم کے عیب اور نقص اور کمزوری سے پاک ہے۔وہ قدوس ہے۔سر چشمہ ہے پاکیزگی کا۔کوئی برائی اس کی طرف منسوب نہیں ہوسکتی۔اگر کوئی دماغ ایسا سوچے تو شیطان اس کو اس کی رہنمائی کرنے والا ہے۔قرآن کریم اس کی رہنمائی کرنے والا نہیں۔