خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 329
خطبات ناصر جلد نهم ۳۲۹ خطبه جمعه ۲۰ نومبر ۱۹۸۱ء احسن قول ، عقیدہ اور عمل اس شخص کا ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف بلاتا ہے خطبه جمعه فرموده ۲۰ /نومبر ۱۹۸۱ء بمقام مسجد اقصیٰ۔ربوہ تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔اللہ تعالیٰ سورۃ حم السجدۃ میں فرماتا ہے۔وَمَنْ أَحْسَنُ قَوْلًا مِمَّنْ دَعَا إِلَى اللَّهِ وَ عَمِلَ صَالِحًا وَ قَالَ إِنَّنِي مِنَ الْمُسْلِمِينَ ( حم السجدة: ۳۴) اور اس سے زیادہ اچھی بات کس کی ہوگی۔اسی کی بات سب سے اچھی ہے جو اللہ کی طرف سب کو بلاتا ہے اور اپنے ایمان کے مطابق صالح عمل کرتا ہے اور ( قال ) کہتا ہے کہ میں تو فرمانبرداروں میں سے ہوں۔یہاں فرمایا کہ وَ مَنْ اَحْسَنُ قَولاً قول کے لحاظ سے سب اچھا وہ ہے۔عربی زبان میں قول کا لفظ مختلف معانی میں بولا جاتا ہے۔مفردات راغب نے دس پندرہ معنی اس کے کئے ہیں اور اپنی اپنی جگہ پر وہ معنی درست استعمال ہوئے قرآن کریم میں۔یہاں جو معنی لگتے ہیں، جو مفردات راغب نے بھی کئے ہیں ، یہ ہیں کہ اس سے مرا دصرف زبان کا اعلان بعض دفعہ نہیں ہوتا یعنی ایک معنی اس کے یہ ہیں کہ صرف زبان سے اعلان کرنا، بیان کرنا ، کہنا یہ مراد نہیں۔اس سے مراد صرف زبان کا اعلان ہی نہیں ہوتا بلکہ یہ مراد بھی ہوتی ہے إِذَا كَانَ مَعَهُ اِعْتِقَادُ وَ عَمَل کہ اس زبان کے بیان کے ساتھ عقیدہ بھی اسی کے مطابق ہو