خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 298
خطبات ناصر جلد نهم ۲۹۸ خطبه جمعه ۳۰/اکتوبر ۱۹۸۱ء کے نتیجہ میں وہ اس عظیم جد و جہد اور مجاہدہ کو سمجھنے لگے ہیں اور اس کے لئے قربانیاں دینی شروع کر دی ہیں۔وقت کی بھی قربانی اور ہر قسم کی قربانی جو انسان دیتا ہے اللہ تعالیٰ کی راہ میں اور مال کی بھی قربانی۔یہ کیوں ہوا؟ خدا نے تو کہا تھا لَبِنْ شَكَرْتُم لازیدنکم اگر تم ناشکرے ہو گے تو میں زیادتی نہیں کروں گا۔یہاں ہمیں زیادتی نظر آتی ہے۔معلوم ہوا کہ جماعت احمدیہ ( یہ واضح نتیجہ نکلتا ہے کہ جماعتِ احمدیہ ( اللہ تعالیٰ کے شکر گزار بندوں کی جماعت ہے۔دوسرے یہ نتیجہ ) نکلتا ہے کہ چونکہ وہ نہایت عاجزی کے ساتھ خدا کے حضور پیش کرتے اور خدا تعالیٰ کی نعمتیں جتنی زیادہ ہوتی جاتی ہیں ان پر اتنا ہی ان کا سر جو ہے وہ زیادہ جھکتا جاتا ہے زمین کی طرف۔اس واسطے لازید نکم کے مطابق ان کے اموال میں بھی برکت اور ان کے اخلاص میں بھی برکت ڈالی گئی اور ان کی قربانی کو قبول کر کے اللہ تعالیٰ نے اس کوشش کے ثمرات جو پیدا ہونے چاہئیں تھے وہ پیدا کرنے شروع کر دیئے۔ایک انقلاب عظیم بپا ہونا شروع ہو گیا۔صحیح ہے بہت سی آنکھیں ابھی نہیں دیکھتیں اسے لیکن یہ جو فرق ہیں اس اٹھارہ سالہ (اٹھارہ سالہ زمانہ کوئی بڑا زمانہ نہیں) اس میں دیکھو غیر ممالک کو اللہ تعالیٰ نے اکتیس لاکھ سے اٹھا کر چار کروڑ اٹھارہ لاکھ پر پہنچا دیا۔بڑا فضل ہے خدا کا۔دنیا میں اربوں روپے کے مالک ہیں جو پانچ روپے بھی خدا کے لئے دینے کے لئے تیار نہیں اور اب ایسے لوگ بھی پیدا ہو گئے۔اس کے اندر وہ جو ابھی تحریک ہوئی تھی خدام الاحمدیہ کی طرف سے مساجد فنڈ کی وہ رقوم شامل نہیں ہیں۔اس کے اندر صد سالہ کی رقوم شامل نہیں ہیں۔اس کے اندر ( یہ جو Figure ( فگر ) ہے چار کر وراٹھارہ لاکھ کی ) جو برکت اللہ تعالیٰ نے نصرت جہاں کی سکیم میں ڈالی تھی وہ شامل نہیں ہے۔اس کے اندر وہ جو میں نے بتایا تھا بڑا لطف آیا د ہراؤں گا پھر۔بڑی مزے دار چیز ہے۔پانچ سات سال ہوئے کیلگری ، شمال مغربی کینیڈا میں ایک شہر ہے۔وہاں ایک چھوٹی سی جماعت تھی۔انہوں نے لکھا کہ ایک گھر ہمیں مل رہا ہے مشن ہاؤس کے لئے قریباً ستر ہزار ڈالر کا کچھ رقم ہم نے اپنے چندوں سے اکٹھی کی ہے اس کے لئے ، کچھ مدد کرے ہمارا مرکز۔تو ہم وہ