خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 297 of 530

خطباتِ ناصر (جلد 9۔ 1981ء، 1982ء) — Page 297

خطبات ناصر جلد نهم ۲۹۷ خطبه جمعه ۳۰/اکتوبر ۱۹۸۱ء کچھ زیادہ تربیت یافتہ تھیں۔بہر حال ساری دنیا کی احمدی جماعتیں تحریک جدید میں اکتیس لاکھ روپیہ دیتی تھیں۔اکتیس لاکھ کا بجٹ تھا کچھ چندوں کے علاوہ بھی مثلاً جو سکول ہیں ان کی فیسوں کی آمد اس طرح شامل ہو جاتی ہے تھوڑی سی اور اٹھارہ سال میں قربانی کی یہ رقم اکتیس لاکھ سے بڑھ کر چار کروڑ اٹھارہ لاکھ بن گئی۔میرا خدام الاحمدیہ کے زمانہ میں بھی یہ تجربہ تھا کہ جتنی ضرورت جس مہینے میں ہمیں پڑی اتنی ہی خدا تعالیٰ نے ہمیں آمد دے دی ، رقم کا انتظام کر دیا۔یہ جو چار کروڑ اٹھارہ لاکھ، اکتیس لاکھ کا بن جانا ہمیں دو چیزیں بتاتا ہے۔ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ نے ہماری حقیر قربانیوں کو قبول فرمایا اور وہ نتائج جو خدا تعالیٰ چاہتا تھا ہماری کوششوں سے نکلیں وہ نکالے۔میرا اور آپ کا یہ کام نہیں کہ لوگوں کے دل خدا اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے جیتیں۔دلوں کے جیتنے کے سامان صرف اللہ تعالیٰ پیدا کرتا ہے۔کوئی اور ہستی یہ سامان پیدا نہیں کر سکتی۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمثیلی زبان میں ہمیں یہ سمجھایا کہ انسان کا دل خدا تعالیٰ کی انگلیوں میں سمجھو اس طرح پکڑا ہوا ہے۔وہ یوں کر کے دے تو اس کا زاویہ اور بن جائے گا اور یوں کر دے تو اس کا زاویہ اور بن جائے گا۔اس کے لئے تو کوئی مشکل نہیں ہے۔تو ایک تو جو یہاں کا چار ساڑھے چار لاکھ روپیہ، باہر کی جماعتوں کا اکتیس لاکھ روپیہ تھا اتنی برکت ڈالی اس میں اللہ تعالیٰ نے اور اتنا اثر پیدا کیا ان کی کوشش میں کہ ان کی تعداد کہیں سے کہیں پہنچ گئی۔یہ جو گراف بنتا ہے تعداد کے لحاظ سے یہ خطے خطے میں مختلف ہے مثلاً غانا کا اندازہ یہ ہے کہ کم و بیش پانچ لاکھ عیسائی اور بت پرست اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس حقیر اور کسمپرسی کی حالت میں زندگی گزار نے والی لیکن خدا تعالیٰ کا پیار حاصل کرنے والی جماعت کے ذریعے کلمہ پڑھ کے مسلمان ہوئے اور دوسرے یہ بتاتی ہیں یہ جو رقوم ہیں غیر ممالک کی چار کروڑ اٹھارہ لاکھ کہ وہ لوگ جو حضرت مسیح موعود و مہدی معہود علیہ السلام کے مقام کو پہچانتے نہیں اور جس مقصد کے لئے آپ مبعوث ہوئے تھے اس کا اندازہ نہیں کر پاتے۔مقصد آپ کا یہ نہیں تھا کہ اپنی عزت دنیا میں قائم کریں۔مقصد یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ کی توحید ہر دل میں بٹھائی جائے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا جھنڈا ہر گھر پر گا ڑا جائے لیکن پوری طرح ان کو ابھی سمجھ نہیں آئی تھی۔احمدی ہو گئے تھے لیکن پوری طرح سمجھ نہیں آئی تھی لیکن اب آہستہ آہستہ تربیت