خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 697
خطبات ناصر جلد ہشتم ۶۹۷ خطبہ جمعہ اار جولائی ۱۹۸۰ء سرے سے یہ امر شامل نہیں ہے کہ وہ اپنی کمائی ہوئی یا پہلے سے حاصل شدہ دولت گھر کے اخراجات کو پورا کرنے پر خرچ کرے اسلام نے اُسے اس کے لئے مکلف ہی نہیں کیا۔اسلام اسے اس امر کی اجازت دیتا ہے کہ اگر وہ چاہے تو اپنی ذاتی دولت میں سے ایک پائی بھی گھر پر خرچ نہ کرے۔اسلام مرد کو یہ حق نہیں دیتا کہ وہ بیوی کو اس کے اپنے مال سے گھر کی ضروریات کو پوری کرنے پر مجبور کرے۔اُس نے بیوی کو اپنی ذاتی ملکیت کے بارہ میں مکمل طور پر آزا درکھا ہے۔حضور نے خطبہ جاری رکھتے ہوئے فرمایا:۔دو ایک باتوں میں قدرتی تفاوت اور اس کے نتیجہ میں پیدا ہونے والی تقسیم کار کے سوا اسلام نے عورتوں کو مردوں کے مساوی حقوق دیئے ہیں۔اُس نے ان میں سرے سے کوئی فرق ہی تسلیم نہیں کیا۔سارا قرآن دونوں میں بحیثیت انسان ہونے کے مکمل مساوات کے ذکر سے پر ہے۔جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کامل اور دائی شریعت لے کر دُنیا میں مبعوث ہوئے تو کس کی طرح مبعوث ہوئے ؟ قرآن کریم خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کر کے اس کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتا ہے: وَمَا اَرْسَلْنَكَ إِلا كَافَةَ لِلنَّاسِ بَشِيرًا وَ نَذِيرًا وَلَكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ 199191 لا يعلمون - (سبا: ٢٩) ( ترجمہ :۔اور ہم نے تجھ کو تمام بنی نوع انسان کی طرف رسول بنا کر بھیجا ہے جو خوشخبری دیتا اور ہوشیار کرتا ہے لیکن انسانوں میں سے اکثر اس حقیقت سے واقف نہیں۔) اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے بتایا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو الناس کی طرف سے رسول بنا کر بھیجا گیا ہے۔النَّاس کا لفظ عربی زبان میں مردوں اور عورتوں دونوں کے لئے اکٹھا بولا جاتا ہے۔سو معنے اس آیت کے یہ ہوئے کہ اے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) ہم نے تجھے ہر مرد اور ہر عورت کی طرف رسول بنا کر بھیجا ہے۔اس لحاظ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بشیر اور نذیر تمام مردوں اور تمام عورتوں کے لئے ہیں۔جہاں تک آپ کی بعثت اور اس کی غرض وغایت کا تعلق ہے اللہ تعالیٰ نے اس اعتبار سے مردوں اور عورتوں میں کوئی تفریق نہیں کی اس لئے قرآن مجید میں جتنے بھی احکام آئے ہیں۔(ماسوا چند احکام کے جن میں جسمانی تفاوت کی وجہ سے عورتوں