خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 698
خطبات ناصر جلد ہشتم ۶۹۸ خطبہ جمعہ ۱۱ جولائی ۱۹۸۰ء کے بعض جدا گانہ نوعیت کے حقوق و فرائض کا ذکر ہے) ان میں یکساں طور پر مردوں اور عورتوں دونوں کو مخاطب کیا گیا ہے اور وہ یکساں طور پر دونوں پر عائد ہوتے ہیں۔مثال کے طور پر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :۔يَايُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِى خَلَقَكُم مِّنْ نَّفْسٍ وَاحِدَةٍ - (النساء : ٢) (ترجمہ:۔اے انسانو! اپنے رب کا تقویٰ اختیار کرو جس نے تمہیں ایک ہی جان سے پیدا کیا ہے ) یہاں بھی الناس کا لفظ استعمال کر کے مردوں اور عورتوں کو ایک ساتھ مخاطب کیا گیا ہے اور انہیں حکم دیا گیا ہے اور انہیں اپنے رب کا تقویٰ اختیار کرنے کا حکم دیا گیا اس حکم کے ذریعہ انہیں دراصل کہا یہ گیا ہے کہ وہ یکساں طور پر خدا تعالیٰ کا پیار حاصل کر کے اس کی نگاہ میں عزت کا مقام حاصل کریں۔اس سے ظاہر ہے کہ اسلام مردوں اور عورتوں دونوں کو عزت اور احترام کا مقام دلانا چاہتا ہے اور اس لحاظ سے ان میں کسی تفریق کا روادار نہیں ہے۔اسلام کی رُو سے عورتوں اور مردوں کے مابین عز وشرف میں مساوات کے ایک خاص پہلو کا ذکر کرتے ہوئے حضور نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں النّاس کے علاوہ بشر کا لفظ بھی انہی معنوں میں استعمال کیا ہے اور کیا بھی ہے ایک خاص محل پر۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ اعلان کر دیا کہ قُلْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ (الكهف : ١١١) ترجمہ: تو (انہیں) کہہ کہ میں تمہاری طرح کا صرف ایک بشر ہوں۔عربی لغت کی رو سے بشر کے معنوں میں بھی مرد اور عورتیں دونوں شامل ہیں جب بشر کا لفظ بیک وقت مردوں اور عورتوں دونوں کے لئے بولا جاتا ہے تو مثلکم میں بھی دونوں شامل ہیں سو اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ اعلان کرایا کہ اے مردو! اور اے عورتو! میں تم جیسا ایک بشر ہوں۔اس طرح آپ نے یہ امر ذہن نشین کرایا کہ بشر ہونے کے لحاظ سے مجھ میں اور دُنیا کے تمام مردوں اور تمام عورتوں میں کوئی فرق نہیں ہے۔سب ایک جیسے بشر ہیں۔یہ انسان کو (جس میں مرد اور عورتیں دونوں شامل ہیں ) زمین سے اُٹھا کر ساتویں آسمان تک لے جانے والی بات ہے یہ مساوات بلحاظ نوع کے ہے اور مردوں اور عورتوں کے یکساں شرف پر دلالت کرتی ہے چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو استعداد اور قابلیت ہر دوسرے انسان سے کہیں بڑھ کر عطا کی گئی