خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 696 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 696

خطبات ناصر جلد هشتم ۶۹۶ خطبہ جمعہ اار جولائی ۱۹۸۰ء ناواجب پابندیاں عاید کرنا نہیں بلکہ ان کے عزّت و احترام اور حقوق کی حفاظت کرنا ہے تو اسے وہ درخور اعتنا نہیں سمجھتے اور ایک ہی رٹ لگائے جاتے ہیں کہ اسلام نے عورت کو مرد کے مساوی درجہ نہیں دیا حالانکہ کسی قوم کی عورتوں کو عقلاً اور اخلاقاً اس امر کی اجازت نہیں دی جاسکتی کہ ان کی لڑکیاں شادی سے پہلے ہی بچے جنے لگیں۔کیا یہ حقیقت نہیں ہے کہ آزادی کے سراسر غلط تصور نے ان قوموں کے افراد کو مادر پدر آزاد بنا چھوڑا ہے۔آزادی کے اس غلط تصور کی وجہ سے ہی امریکہ میں ہر سال لاکھوں بچے ایسے پیدا ہوتے ہیں جنہیں ان کی مائیں شادی سے پہلے ہی جنم دے دیتی ہیں۔اب اگر کوئی یہ کہے کہ اسلام اس کی اجازت نہ دے کر عورتوں پر سختی کرتا ہے تو اس کا یہ اعتراض عقلاً، مذہباً اور اخلاقاً سراسر نا واجب ہے۔اسلام عورتوں کو ان کے حقوق کے تحفظ کی ضمانت دے کر مردوں کی طرح انہیں بھی زمین سے اُٹھا کر آسمان کی رفعتوں میں لے جانا چاہتا ہے۔جو چیز عورتوں کی اس ترقی کی راہ میں روک بنے اسلام اسے تسلیم نہیں کرتا نہ اس کی اجازت دیتا ہے۔حضور نے اسلام کی رُو سے مردوں اور عورتوں کے حقوق اور ان تعین کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:۔اسلام نے مردوں اور عورتوں میں حقیقی مساوات قائم کی ہے دونوں میں قدرتی لحاظ سے جسمانی فرق کی وجہ سے پیدا ہونے والے تفاوت کے سوا اسلام نے عورتوں کو مردوں کے برابر حقوق دیئے ہیں۔جسمانی لحاظ سے قدرتی فرق کو واضح کرتے ہوئے حضور نے فرمایا ہے مثال کے طور پر عورتیں بچے جنتی ہیں مرد بچے نہیں جن سکتے یہ فرق قدرت نے پیدا کر رکھا ہے اسے بدلا نہیں جا سکتا۔اس فرق کا مردوں اور عورتوں کے حقوق اور ان کی نوعیت پر ایک حد تک اثر انداز ہونا ایک قدرتی امر ہے۔اس لحاظ سے اگر دیکھا جائے تو خاوند اور بیوی کا اپنا اپنا ایک مقام ہے ہر چند کہ دونوں کا اپنا اپنا مقام اہم ہے تاہم اسے بدلا نہیں جاسکتا۔گھر کا انتظام چلانا اور بچوں کی پرورش اور تربیت کرنا عورتوں کا کام ہے۔مرد کی ذمہ داری بیوی اور بچوں پر مشتمل پورے گھر کی تمام جائز ضروریات کو پورا کرنا اور اس کے لئے محنت و مشقت کر کے اخراجات مہیا کرنا ہے۔بیوی کے فرائض میں