خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 654 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 654

۶۵۴ خطبه جمعه ۲۱ مارچ ۱۹۸۰ء خطبات ناصر جلد هشتم تو دوستی محبت یا دشمنی اور عداوت اس رنگ میں ہے قرآن کریم کے نزدیک ، میں نے بتایا یہ اصولی اور بنیادی چیز ہے جو یہاں بیان کی گئی ہے کہ محبت کرنا خدا سے اس معنی میں ہے کہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اُسوہ بنا کر آپ کے نقش قدم پر چلا جائے اور اللہ تعالیٰ کی کامل اطاعت کی جائے۔اسی رنگ میں جس رنگ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کی کامل اطاعت کی۔اس فرق کے ساتھ کہ انہوں نے اپنی استعداد اور قوت کے مطابق اپنے رب کی اطاعت کی اور آپ کے متبعین نے اپنی اپنی قوت اور استعداد کے مطابق اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرنی ہے لیکن کرنی ہے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نقش قدم پر چل کے۔یہ تو وہ محبت ہے جسے اسلام بتاتا ہے۔محبت خدا سے محبت خدا کے رسول سے کامل اتباع کامل محبت کے نتیجے میں ہی پیدا ہوگی نا۔فَاتَّبِعُونِي میں ایک اور اعلان کیا گیا تھا یعنی کامل اطاعت کرو خدا کی محبت حاصل کرنے کے لئے اور کامل اتباع تم کر نہیں سکتے جب تک مجھ سے بھی کامل محبت نہ کرو تو یہاں دو محبتیں ہیں۔ایک محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرنا اس لئے کہ خدا کی نگاہ میں آپ کی عظمت بہت شان رکھتی ہے اور آپ کے نقش قدم پر چلنا اس کے لئے کہ اس طرح پر اللہ تعالیٰ کے وعدہ کے مطابق خدا تعالیٰ کا پیار حاصل کیا جا سکے۔اگر کوئی یہ کہے کہ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اُسوہ کے مطابق زندگی نہیں گزارنا چاہتا لیکن خدا سے پیار کرنا چاہتا ہوں خدا کا پیار حاصل کرنا چاہتا ہوں تو اللہ تعالیٰ نے یہاں یہ اعلان کیا تم خدا کا پیار حاصل نہیں کرو گے۔اِنَّ اللهَ لَا يُحِبُّ الْكَفِرِينَ جو اس بتائے ہوئے طریق کا انکار کرتا ہے وہ خدا کی دشمنی مول لیتا ہے۔اس کی محبت حاصل نہیں کرتا۔قرآن کریم نے متعدد جگہ اس کی تفسیر میں یہ بتایا کہ یہ یہ یہ یہ یہ چیزیں ہیں ، اعمال ہیں جن کے نتیجے میں خدا تعالیٰ کا غضب بھڑکتا ہے۔وہ میں بتاؤں گا ان آیات کو جب لوں گا کہ اس میں یہ بھی ہے کہ یہ وہ باتیں ہیں جن سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ساری عمر پر ہیز کرتے رہے۔آپ کی زندگی میں کوئی ایک واقعہ بھی ایسا نہیں جو اس قسم کا ہو کہ جو خدا کو پسند نہیں خدا تعالیٰ نے بہت سی باتیں بتائیں اور کہا کہ جو اس قسم کے ہیں اعمال ان سے خدا محبت کرتا ہے۔مثلاً فرمایا۔