خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 529 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 529

خطبات ناصر جلد ہشتم جس پر ۵۲۹ خطبه جمعه ۴ جنوری ۱۹۸۰ء ابن مسعودؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر کوئی شخص دوسر۔پر لعنت بھیجتا ہے تو د واعنت جو ہے تمثیلی زبان میں آپ نے بات کی وہ جاتی ہے اُس شخص کے پاس پر لعنت بھیجی گئی ہے اور اگر اس شخص میں کوئی ایسی بات پائی جاتی ہے پہلے ہی کہ خدا تعالیٰ کی نگاہ میں وہ ملعون ہے تو یہ لعنت بھی اس کو پہنچ جاتی ہے لیکن اگر اس میں ایسی کوئی بات نہیں ہوتی تو وہ لعنت خدا سے یہ کہتی ہے کہ اے میرے رب وُجهت إلى فُلَانٍ مجھے فلاں کی طرف بھیجا گیا ہے لعنت کہتی ہے زبانِ حال سے فَلَمْ أَجِدُ فِيهِ مَسْلَگا لیکن وہ تو لعنت کا مستحق نہیں مجھے تو کوئی رستہ نظر نہیں آتا کہ لعنت وہاں اس کے اوپر چمٹ جائے وَلَمْ أَجِدُ عَلَيْهِ سَبِيلًا فَيُقَالُ لَهَا تو اس لعنت کو کہا جاتا ہے ارْجِعِي مِنْ حَيْثُ جِنتِ کہ جولعنت بھیجنے والا ہے اس کو جاکے چمٹ جا۔حضرت مسیح موعود نے فرمایا ہے کہ کسی کی نسبت لعنت میں جلدی نہ کرو“۔یہ فقرہ اس لئے کہا ہے کہ پیچھے سے مضمون ہی ایک ایسا آ رہا ہے ضروری تھا یہ فقرہ کہنا۔د کسی کی نسبت لعنت میں جلدی نہ کرو کہ بہتیری بدظنیاں جھوٹی ہیں اور بہتیری لعنتیں اپنے ہی پر پڑتی ہیں۔سنبھل کر قدم رکھو اور خوب پڑتال کر کے کوئی کام کرو اور خدا سے مدد مانگو کیونکہ تم اندھے ہو۔ایسا نہ ہو کہ عادل کو ظالم ٹھہراؤ اور صادق کو کا ذب خیال کرو۔اس طرح تم اپنے خدا کو ناراض کر دو اور تمہارے سب نیک اعمال حبط ہو جاویں۔“ اور اسی کو لعنت کہتے ہیں سب اعمال نیک اعمال جو ہیں وہ حبط ہو جائیں۔۲۸ تو وقف جدید کا جو کام ہے وہ تربیت کرنا ہے اور تربیت میں آداب سکھلانا بھی ہے اور اخلاق سکھلانا بھی ہے اور آداب و اخلاق سکھانے کے لئے بری عادتوں کو چھڑوانا بدعقائد کو مٹاکر صحیح عقائد کا قائم کرنا ہے اور بد خلقی کو مٹا کر اخلاق فاضلہ قائم کرنا ہے۔یہ ایک تنظیم ہے اس کو پیسے کی بھی ضرورت ہے۔جو گوشوارہ مجھے دیا گیا وقف جدید کے آمد و خرچ کا اس سے پتہ لگتا ہے کہ چار مدیں ہیں ان کی۔دو چھوٹی سی ہیں، ان کو میں چھوڑ رہا ہوں وہ ہیں بھی ہنگامی نوعیت کی مستقل مزیں ہیں ایک تو چندہ جماعت بالغان ، بالغان کا نام اس