خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 528
خطبات ناصر جلد هشتم ۵۲۸ خطبه جمعه ۴ جنوری ۱۹۸۰ء کہ انہوں نے کچھ سوال کئے تو آپ نے فرمایا کہ اس موقع پر ایک فرشتہ میرے پاس آیا اور اس نے یہ کہا کہ مجھے خدا تعالیٰ نے اس لئے بھیجا ہے کہ جو آپ کو پہاڑ نظر آرہے ہیں میں ان کے اوپر ہوں متعین فرشتہ کہ اگر آپ طائف کے لئے بددعا کریں تو میں ان دونوں پہاڑوں کو یوں اکٹھا کردوں، ان کے اوپر ، اور یہ پس جائیں جس طرح چکی میں چیز پیسی جاتی ہے۔آپ نے کہا نہیں میں بددعا نہیں کروں گا ان کے لئے۔اس لئے کہ یہ نسل آگے چلانے والی جنس ہے ، نوع ہے۔یہ نسل ہے، اس کے بعد ایک انگلی نسل پیدا ہوگی اور ان میں بڑے فدائی اسلام کے پیدا ہوں گے تو آنے والی نسلوں نے اس ظالم نسل کی حفاظت کر لی اس وقت اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خدا تعالیٰ نے اذن دیا کہ بددعا کرو اور میں قبول کروں گا۔حکم نہیں دیا۔اذن دیا کہ بد دعا کرو میں قبول کروں گا۔اس اذن کے باوجود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کے حضور یہ عرض کی کہ اے خدا! تیرے بندوں کے خلاف میں بددعا نہیں کروں گا۔تو جس کو اذن ہی نہیں، جس کو انذار ہے جو ابھی ہم دیکھیں گے وہ کیسے جرات کر سکتا ہے۔یعنی عقلاً نہیں کرسکتا، کر جاتے ہیں کئی لوگ۔جس کی وجہ سے مجھے تکلیف پہنچی اور میں یہ باتیں کر رہا ہوں آپ کے ساتھ۔خدا کے بندوں پر لعنت بھیجنا شروع کر دیا کو سنا شروع کر دیا انہیں۔طبرانی میں بحوالہ الترغیب والترھیب یہ روایت ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ ہمارا ماحول ایسا تھا کہ اگر کسی شخص کے متعلق ہمیں یہ علم ہو جاتا کہ اس نے اپنے کسی دوسرے بھائی پر مسلمان مومن پر لعنت بھیجی ہے کلمہ اس کے منہ سے نکلا ہے رَأَيْنَا اَنْ قَدْ آتَى بَابًا مِّنَ الْكَبَائِرِ تو اسے ہم چھوٹا گناہ نہیں سمجھتے تھے کبیرہ گناہ سمجھتے تھے لعنت کرنا ، گالی دینا، کوسنا کہ خدا تجھ پر لعنت کرے تجھ پر عذاب نازل کرے یہ کرے وہ کرے۔یہ کبائر میں سے ہے معمولی بات نہیں ہے۔اسی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت ہے۔سنن ابی داؤد میں یہ روایت آتی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دوسروں پر لعنت نہ بھیجا کرو۔یہ کہہ کر تجھ پر اللہ کی لعنت پڑے یا یہ کہہ کر کہ خدا کا غضب تجھ پر نازل ہو۔یعنی وہ بھی لعنت میں ہی شامل کیا ہے اس کو یا یہ کہہ کر کہ تو جہنم میں جائے۔