خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 530
خطبات ناصر جلد هشتم ۵۳۰ خطبه جمعه ۴ جنوری ۱۹۸۰ء لئے رکھا گیا کہ ایک وقت میں اطفال کے لئے علیحدہ دفتر کھول دیا گیا۔اس میں قریباً پچاس ہزار کی زیادتی ہے جو اس سال میں جو ۱ ۳ دسمبر ۱۹۷۹ء کو ختم ہوا۔کل آمد چندہ بالغان میں ۱۷۱ ، ۶۳ ، ۴ ہے اور دفتر اطفال میں ۸،۹۲۱ کی زیادتی ہے۔تھوڑی تھوڑی زیادتیاں ہیں لیکن میں نے بتایا ہے کہ معلموں کی بہت ضرورت ہے۔اور ایک زائد چیز اب میں جو پہلے میں نے بات کرتے ہوئے نہیں بتائی وہ یہ کہ جب میں نے یہ کہا کہ ہر احمدی بچہ جو ہے وہ کم از کم میٹرک تک پڑھا ہوا ہونا چاہیے تو پہلے جوشرط معلمین کے لئے، وقف جدید کے معلمین کے لئے غالباً نہیں تھی، مجھے صحیح نہیں پتہ، لیکن میرا خیال ہے کہ نہیں تھی۔اگر نہیں تھی تو اب یہ شرط ضرور لگا دیں کہ آئندہ جو لئے جائیں وہ کم از کم میٹرک پاس ہوں اور اگر پہلے سے ہی ہے تو ٹھیک ہے۔اور دوسری بات اس ضمن میں یہ ہے کہ خالی میٹرک نہ ہو بلکہ تھرڈ ڈویژن میٹرک نہ ہو سیکنڈ ڈویژن کا کم از کم ہو۔اور اس کے اندر یہ قوت اور یہ استعداد ہو کہ جب وقف جدید کا نظام اس کے اخلاص کی چھپی ہوئی تاروں کو حرکت میں لائے اس کی جو خوابیدہ قوتیں ہیں وہ بیدار ہونے والی ہوں یعنی نکھد نہ ہو۔کر دینا چاہیے فارغ کر دینا چاہیے کہیں اور جاکے اپنے پیسے کمائے اور خدمت خلق کا جذبہ اور خدمت خلق کرنے کا جوش اس میں یا موجود ہو یا پیدا کیا جاسکے۔جس معلم میں خدمتِ خلق کا جذ بہ نہیں اور اس کے لئے ہر وقت وہ بے چین نہیں ، اور تڑپ نہیں ہے اس میں کہ جہاں دکھ نظر آتا ہے اس کو حتی الوسع دور کرنے کی کوشش کرے وہ ہمارے کام کا نہیں۔اس کو اللہ تعالیٰ نے کسی اور کام کے لئے بنایا ہے اس کی تو اچھے معلم زیادہ معلم دیں جب معلم زیادہ ہوں تو جتنی رقم کی ضرورت پڑے اس کے مطابق رقم دیں۔جو معلم ہیں وہ نیک نیتی اخلاص اور جذ بہ کے ساتھ آئیں۔جو منتظمین ہیں وہ ان کو ابھاریں اور ان کے لئے ایسا نصاب اور ان کی ہدایت کے لئے ایسی چھوٹی چھوٹی کتابیں آداب کے متعلق اور اخلاق کے متعلق شائع کریں اور ان کی ایک نوٹ بک بنادیں سو صفحے کی۔اس سے زیادہ کی ضرورت نہیں۔ڈیڑھ سو صفحہ ہو زیادہ سے زیادہ جس میں