خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 527
خطبات ناصر جلد هشتم ۵۲۷ خطبه جمعه ۴ جنوری ۱۹۸۰ء ترمذی کی حدیث ہے کہ مومن جو ہے وہ لعنتیں بھیجنے والا نہیں ہوتا۔وہ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فیض سے رحمتوں کو اکٹھا کرنا کچھ اپنے لئے کچھ اپنے ماحول کے لئے اور اس فیضان کو وہ پھیلاتا ہے۔پھر ترمذی میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: - لَيْسَ الْمُؤْمِنُ بِالطَّعَانِ وَلَا اللَّغَانِ وَلَا الْفَاحِشِ وَلَا الْبَذِی ءِ کہ مومن جو ہے وہ۔طعان جو ہے اس کے معنے ہیں عیب جو عیب گیر عیب لگانے والا۔مومن جو ہے وہ۔دوسروں کے عیب کی تلاش میں نہیں رہتا عیب پکڑتا نہیں دوسروں کے، اپنی فکر رہتی ہے اس کو اور عیب لگانے والا نہیں ہے وہ۔یہ تینوں معنے اس لفظ کے اندر آتے ہیں۔طقان کے معنی میں۔تو مومن آپ نے کہا ایسا نہیں ہوتا کہ دوسروں کے عیب دیکھے۔اپنے عیب دیکھو اپنا محاسبہ کرو اور استغفار کرو اور خدا کی پناہ مانگو اس سے مدد چاہو کہ تمہارے عیب دور ہوجائیں۔دوسروں کے عیب دیکھ کے تمہیں کیا خوشی حاصل ہوتی ہے۔آپ نے فرمایا لعنت نہیں کرتا ایک مومن۔جس کے معنے میں ابھی بتا چکا ہوں۔وہ بددعائیں دینے والا وہ کو سنے دینے والا وہ خیر کی بجائے بدی چاہنے والا وہ سنت نبوی سے احتراز کرنے والا اس پر عمل نہ کرنے والا نہیں ہے مومن۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو خیر ہی خیر تھے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکی زندگی میں ایک وقت میں یہ ارادہ کیا کہ طائف شہر جو چالیس میل پر مکے سے ہے وہاں جا کے تبلیغ کریں ان کو۔شاید وہاں کوئی رجل رشید مل جائے جس پر اثر ہو آپ کی تبلیغ کا۔قریباً دس دن وہاں ٹھہرے اور جہاں جاتے تھے وہاں بات سننے سے انکار کر دیتے تھے۔ایک بہت بڑے رئیس کے پاس گئے اس نے بات سننے سے انکار کیا اور اس نے کہا کہ میرا مشورہ آپ کو یہ ہے کہ آپ ہمارا شہر چھوڑ کے چلے جائیں۔وہ مشورہ نہیں تھا۔وہ دھمکی تھی۔جب آپ نے دیکھا یہاں ٹھہرنے کا کوئی فائدہ نہیں آپ باہر نکلے تو شہر کے اوباش اور غنڈے جو تھے وہ ان رؤوسائے طائف نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے لگا دیئے۔جو زبان سے ایذا بھی دے رہے تھے اور جو ہاتھ سے ایذا بھی دے رہے تھے پتھر بھی پھینک رہے تھے۔آپ زخمی بھی ہوئے۔حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی روایت ہے