خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 382
خطبات ناصر جلد ہشتم ۳۸۲ خطبہ جمعہ ۲۱ ستمبر ۱۹۷۹ء اکٹھے ہو گئے ہیں وہاں۔وہاں جا کے گنتی کروائی تو وہ میں نہیں چالیس تھے وہاں اس کمرے کے اندر تو روٹی کا ضیاع نہیں ہو رہا تھا ، کفایت شعاری سے کام لیا جا رہا تھا۔تو یہ وسعت ہے ان کی۔کسی کو پرواہ ہی کوئی نہیں کہ جگہ تنگ ہے۔پہلے بھی میں نے بتایا تھا کہ ایک نظارہ خدا کے ساتھ ، اس کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پیار کا اور اس جلسے میں جو برکتیں نازل ہوتی ہیں ان کے ساتھ لگاؤ کا میں نے دیکھا۔یہ بھی اسی زمانے کی بات ہے جب میں افسر جلسہ سالا نہ تھا۔ایک سپیشل گاڑی آ رہی تھی میں بھی اتفاقاً وہاں چلا گیا دیکھنے کے لئے کہ کیا کیا انتظام ہے جس وقت گاڑی کھڑی ہوئی تو چند مہینوں کا بچہ ایک ماں کی گود میں تھا۔اس کا خاوند دوسرے ڈبے میں تھا۔گاڑی کھڑی ہوئی اسی وقت اس کا خاوند دروازے کے سامنے آ گیا۔وہ ماں اتنی جوش میں تھی اور اتنا جذ بہ اس کے اندر پیدا ہو چکا تھار بوہ میں پہنچنے کی وجہ سے کہ اس نے دو تین مہینے کے بچے کو پیار کے ساتھ جو مامتا کا تقاضا تھا اپنے خاوند کے ہاتھ میں نہیں دیا بلکہ یوں پھینکا اس کی طرف ( حضور نے ہاتھوں سے اشارہ کر کے بتایا ) اس نے فورا ہی اٹھالیا بچے کو، گرانہیں وہ ، اس کو چوٹ نہیں آئی۔لیکن وہ عجیب نظارہ تھا جو میری آنکھوں نے دیکھا۔تو وہ اس جذبے کے ساتھ آتے ہیں۔جس پیار اور محبت کے ساتھ اور قربانی کے جذبے کے ساتھ وہ آتے ہیں اور جہاں ہم سمجھتے ہیں کہ تیس آدمی بھی رات نہیں گزار سکتے وہاں چالیس چالیس آدمی رات گزارنے کی نیت کر کے یہاں آنے والے ہیں وہ لوگ ان کے جذبہ کا آپ کے جذبہ کے ساتھ مقابلہ ہے کہ جو کچھ وہ خدا کے حضور پیش کر رہے ہیں خدا سے بے شمار لینے کے لئے (إِنَّ اللهَ يَرْزُقُ مَنْ يَشَاءُ بِغَيْرِ حِسَابِ (آل عمران:۳۸) یہ بِغَيْرِ حِسَابِ ملتا ہے۔) آپ ان سے زیادہ لیتے ہیں یا کم یہ تو مقابلہ ہے نیکیوں کے حصول میں مسارعت اختیار کرنے کا اس میں میرا تعلق تو دونوں سے ہے۔کبھی دل کرتا ہے آپ آگے بڑھ جائیں کبھی دل کرتا ہے وہ آگے بڑھ جائیں۔اب آپ اپنے عمل سے بتائیں کون آگے بڑھتا ہے۔بہر حال مکانوں کی ذمہ داری ہے۔پھر صفائی میں آپ نے شامل ہونا ہے خدام الاحمدیہ اور انصار اللہ کی طرف سے جو اجتماعی صفائیاں ہوں گی ان میں جس طرح غریب دلہن ہوتی ہے