خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 381
خطبات ناصر جلد هشتم ۳۸۱ خطبہ جمعہ ۲۱ ر ستمبر ۱۹۷۹ء انہیں ، وہ دن جلدی آجائیں اور اصل تو یہ ہے کہ ہم اس یقین پر قائم ہیں کہ خدا تعالیٰ سے دوری اور مہجوری جو ہے یہ ایک ایسی جہنم ہے کہ ایک لحظہ کے لئے بھی ہمارا دل اور ہمارا دماغ اور ہماری روح اس کو برداشت کرنے کے لئے تیار نہیں۔خدا کرے کہ ساری دنیا جو ہے وہ اس جہنم سے محفوظ ہو جائے اور خدا تعالیٰ کے پیار کے ٹھنڈے سائے تلے جمع ہو جائے۔اور اہل ربوہ کا دوسرا کام یہ ہے کہ اتنے رضا کا ر دے دیں کہ جلسہ کے نظام میں دقت محسوس نہ ہو۔میں یہ نہیں کہتا سارے کے سارے آ جاؤ کیونکہ سارے کے ساروں کی ضرورت ہی نہیں ہے۔میں یہ کہتا ہوں کہ جتنے کی ضرورت ہے اتنے دے دو۔میں یہ کہتا ہوں کہ اگر کسی گھر میں چار بچے ہیں طفل یا خدام یا انصار ہیں ان کے کرنے کے بھی بعض کام ہیں ، وہ گھر ضرور اس خدمت میں شامل ہو کے اس کی برکات لے اور کلی طور پر اپنے آپ کو محروم نہ کرے پھر وسیغ مكانك خدائی حکم ہے ہر سال مکان بڑھتے ہیں۔کچھ دباؤ بہت پڑ گیا با ہر۔زیادہ مکان بنے ہیں پچھلے سال دو سال میں جماعت کے ایک طبقہ کے مالوں میں کچھ برکت پیدا ہوئی اس کی وجہ سے بھی قیمتیں بڑی بڑھا دیں آپ نے زمینوں کی۔بہر حال مکان بھی بنے۔ہر مکان جو ہے میں جانتا ہوں اس میں حضرت مسیح موعود کے مہمان ٹھہرے ہوں گے۔یہ مجھے علم ہے چونکہ میں افسر جلسہ سالا نہ بھی رہا ہوں اور یہ جو وسعت ہے یہ دونوں طرف کی ہوتی ہے ایک مکانیت میں وسعت، وہ بھی پیدا کر دے خدا۔ایک تمہارے دلوں میں وسعت پیدا ہونی چاہیے کہ تم بشاشت کے ساتھ تنگی برداشت کر کے ایک حصہ مکان کا دو مہمانوں کے لئے ایک آنے والے مہمانوں میں وسعت پیدا ہوتی ہے اور ہوتی بھی ہے بڑی تعجب انگیز۔ایک دفعہ میں افسر جلسہ سالا نہ تھا اور ہمارے نگران آنکھیں کھلی رکھنے والے بھی پھرا کرتے تھے، مجھے اطلاع ملی کہ ایک چھوٹا سا کمرہ ہے اور تیس مہمانوں کی روٹی وہاں جارہی ہے ، روٹی کا ضیاع ہو رہا ہے۔یہ تو کہنے والوں نے کہا کہ وہ اتنا چھوٹا کمرہ ہے کہ وہاں تیں پہلو بہ پہلو آدمی لٹا دیئے جائیں تو تیں نہیں آتے۔میں نے کہا ٹھیک ہے کر لیں گے چیک۔میں نے ایسا انتظام کیا کہ جس وقت گیارہ اور بارہ کے درمیان ہم نے دیکھا کہ سب مہمان اپنی رہائش گاہوں میں جاچکے ہوئے ہیں اب کوئی بھی باہر نہیں آرہا۔