خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 375
خطبات ناصر جلد هشتم ۳۷۵ خطبہ جمعہ ۲۱ ر ستمبر ۱۹۷۹ء آگے بڑھ کے ان سے مصافحہ کرنے کی خواہش کا نظارہ کئی دفعہ جلسے پر آتے جاتے آنکھوں کے سامنے آگیا۔تو بڑی برکتوں والا ہے یہ جلسہ۔اس کے کئی پہلو ہیں جن کی طرف ہر سال ہی توجہ دلائی جاتی ہے۔ایک پہلو تو جلسے کے نظام سے تعلق رکھتا ہے، ایک پہلو اہلِ ربوہ کی ذمہ داریوں سے تعلق رکھتا ہے، ایک پہلو ساری دنیا میں پھیلی ہوئی جماعت احمدیہ سے تعلق رکھتا ہے، ایک پہلور بوہ میں باہر سے آنے والوں سے تعلق رکھتا ہے۔جو ذمہ داری ساری دنیا میں پھیلی ہوئی جماعت احمدیہ پر ہے وہ یہ ہے کہ اس جلسہ کی برکات کو حاصل کرنے کے لئے باہر سے ہر ملک سے دوستوں کو شریک ہونا چاہیے۔اس میں شک نہیں کہ بعض ملکوں سے بہت سے دوست ہر سال آجاتے ہیں۔اس میں بھی شک نہیں کہ بعض ملک جو ہیں ان سے ابھی تک کوئی بھی نہیں آیا اور بعض ایسے ہیں کہ جو کبھی آتے ہیں کبھی نہیں آتے۔جب سے آنے شروع ہوئے یہ شکل بنی ان کی اس میں شمولیت کی جو ضرورت ہے وہ یہ ہے کہ دنیا کے ہر خطہ سے جہاں احمدی بستے ہیں تھوڑے یا بہت کوئی نہ کوئی احمدی اس جلسہ میں شامل ہونے کے لئے یہاں پہنچے تا کہ جو حاصل کرے وہ دوسرے تک پہنچانے کا اہل ہو سکے اور جو باتیں سنے وہ پہنچائے۔جو دنیا میں انقلاب عظیم غلبہ اسلام کے لئے اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے بپا کر رہا ہے وہ باتیں بھی سنائی جاتی ہیں وہ ہر ایک کو بتائے۔آپس میں اتنا پختہ اور پکا ابھی تعلق نہیں ہوا حالانکہ وسائل ہیں لیکن آہستہ آہستہ ادھر جماعت توجہ کر رہی ہے۔دوسرے آنے والے اب تک بغیر کسی منصوبے کے آتے تھے۔مثلاً ایک ملک ہے وہاں سے پچاس آگئے ، دوسرا ملک ہے اس سے چالیس آ گئے ، ایک ملک ہے وہاں سے ایک آگیا، ایک اور ملک ہے وہاں سے کوئی بھی نہیں آیا۔تو یہاں اس وقت موجودہ حالت میں جو انتظام ہے وہ ابھی زیادہ وسیع نہیں، محدود ہے۔اس وقت تحریک جدید کو ابھی سے تحریک کرنی چاہیے کہ جہاں بھی احمدی ہیں وہ کوئی نمائندہ بھجوائیں اور ایسا منصوبہ بنانا چاہیے کہ یہاں آنے کے بعد وہ تنگی محسوس نہ کریں کیونکہ ابھی ان کو اتنی عادت نہیں پڑی جتنی کہ ہندوستان پاکستان میں رہنے والوں کو عادت پڑ گئی۔بڑے لمبے عرصے سے جلسے میں شامل ہونے والے ہیں بچپن سے جلسے میں شامل