خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 376
خطبات ناصر جلد ہشتم خطبہ جمعہ ۲۱ ستمبر ۱۹۷۹ء ہونے والے بھی ہیں۔اتنا پیار پایا جاتا ہے۔قادیان میں کسیر“ ایک اور گھاس تھا جو نیچے بچھایا جاتا تھا اور یہاں اب یہ پرالی ہے کسیر ہی تھی وہاں غالباً۔یہاں پرالی ہے۔اتنے شوق سے اور پیار سے سوتے ہیں جن علاقوں سے دو تین سال سے آرہے ہیں احمدی مثلاً امریکہ ہے ان میں سے بعض دوستوں نے کہا کہ ہمارے لئے چار پائیاں کیوں بچھاتے ہو، ہمارے لئے پرالی بچھاؤ جس طرح اور احمدی یہاں زندگی گزارتے ہیں ہمیں موقع دو کہ ہم بھی اسی طرح زندگی گزاریں اور خدا تعالیٰ کی برکات سے حصہ لینے والے بنیں لیکن بہر حال آہستہ آہستہ ان کو عادتیں یہ پڑیں گی۔ہر ملک کی اپنی عادتیں ہیں جہاں تک ممکن ہے ان عادتوں کا ہم خیال رکھتے ہیں۔رکھنا بھی چاہیے لیکن جہاں تک ان کے لئے ممکن ہوا وہ ہماری عادتوں کے مطابق بھی کچھ زندگی کے دن گزارنے کے لئے تیار ہو جائیں گے۔ایک تو ہر جگہ کے آئیں۔دوسرے اتنی کثرت سے نہ آئیں کہ یہاں ہم ان کو سنبھال نہ سکیں فی الحال۔ایک وقت میں تو جتنے مرضی آجا ئیں سنبھالے جائیں گے انشاء اللہ تعالیٰ لیکن بہر حال کسی منصوبے کے مطابق ان کو یہاں آنا چاہیے۔دوسرے یہاں جب وہ آتے ہیں تو ان کے لئے علیحدہ انتظام ہوتا ہے۔ان کے ساتھ لگے ہوئے ہوتے ہیں ان کی زبان بولنے والے سمجھانے والے۔اس کا بھی بہتر انتظام ہونا چاہیے دو لحاظ سے۔ایک تو جو تقاریر ہوتی ہیں ان کے چاہے دو صفحے کا نوٹ ہو صرف عنوانوں کے اوپر ، وہ ان کی زبان میں یا ایسی زبان میں جنہیں وہ سمجھ سکیں روز رات کو تیار ہو جائے اور ان کے ہاتھ میں دے دیا جائے۔کوئی ایسا مشکل کام نہیں ہے، کچھ آدمی لگانے پڑیں گے اس کے اوپر۔بہت سے تو وہیں سمجھ جاتے ہیں انہوں نے اپنا کوئی طریقہ ایسا بنا لیا ہے سمجھنے کا۔بعض دوست مثلاً بعض امریکن شام کو مجھے ملے اور ان کو اس دن کی کارروائی کے متعلق اصولی طور پر یعنی جو مختلف پہلو بیان ہوئے تھے ان کے متعلق مختصر اعلم تھا کہ آج یہ موضوع زیر بحث آئے ہیں یا ان پر تقاریر کی گئی ہیں۔جہاں تک یہاں کی جماعت کا تعلق، پاکستان کی جماعت کا، ان کا تو کام ایک ہے اور وہ اسے کرتے ہیں اور پیار سے اور عشق سے کرتے ہیں ان کا کام یہ ہے کہ جتنے زیادہ سے زیادہ