خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 374 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 374

خطبات ناصر جلد ہشتم ۳۷۴ خطبہ جمعہ ۲۱ ر ستمبر ۱۹۷۹ء ایک قسم کا اجتماعی ماحول پیدا ہو جاتا تھا۔یہ جو فلی اجتماعی ماحول پیدا ہونے کے ذرائع ہیں یہ چھوٹے بھی ہیں بڑے بھی ہیں۔ایسے بھی ہیں جو انسان عام ہدایت کے مطابق اپنے طور پر منعقد کرتا ہے جیسے خدام الاحمدیہ کے اجتماع ہیں۔ایسے بھی ہیں جن کی طرف اللہ تعالیٰ نے راہنمائی کی ہے۔جیسے ہمارا جلسہ سالانہ ہے اور آج میں جلسہ سالانہ کے متعلق ہی کچھ کہنا چاہتا ہوں اس تمہید کے بعد۔جلسہ سالانہ جو ہے ہمارا یہ ایک طوعی نفلی اجتماع ہے لیکن بڑی ہی اہمیت کا حامل ہے اور بہت سی برکات کا نزول ہوتا ہے اس موقع پر اور بڑی شان ظاہر ہوتی ہے اس کی اور اللہ تعالیٰ کے عظمت اور جلال کے معجزانہ جلوے دیکھنے والی آنکھ اس موقع پر دیکھتی ہے۔اللہ فضل کرے ہماری کسی کوشش کے نتیجہ میں نہیں ہمیشہ ہی اللہ تعالیٰ فضل کرتا رہے کبھی بھی جلسہ سالانہ کے موقع پر کثرت سے بیماری نہیں آتی حالانکہ اتنا ہجوم ہوتا ہے چھوٹی سی جگہ پر اکٹھے ہوتے ہیں دوست، بہت سی غلطیاں ہو جاتی ہیں صحت کو قائم رکھنے کے لحاظ سے۔کھانے میں غلطی ہو جاتی ہے۔لوگوں کو جس کھانے کی عادت نہیں ہوتی وہ یہاں کھا رہے ہوتے ہیں۔جس وقت کھانے کی عادت ہوتی ہے اس وقت وہ کھا نہیں سکتے۔اس کا اثر پڑتا ہے۔کئی لوگ ہیں ان کو ذرا بھی مرچ زائد ہو جائے تو پیچش شروع ہو جاتی ہے وغیرہ ہزار قسم کی آزمائشوں میں سے اللہ تعالی گزارتا ہے اور ہزار قسم کے معجزات خدا تعالیٰ ہمیں اپنے دکھاتا ہے۔ہر انسان جو شامل ہوتا ہے اس جلسے میں اگر وہ اپنی آنکھیں کھلی رکھے اور اپنے کان خدا تعالیٰ کی آواز سننے کے لئے کھلے رکھے اور اپنی آنکھیں اس کے نور کے جلوؤں کو دیکھنے کے لئے کھلی رکھے، کان بھی اور آنکھ بھی تو بہت کچھ وہ دیکھتا ہے، بڑی برکتیں ہیں۔پھر نیکی کی باتیں ہیں۔وہ کانوں میں پڑتی ہیں۔پھر دوست ہیں وہ آپس میں ملتے ہیں۔اب تو ساری دنیا سے دوست یہاں آتے ہیں اور ان کا ایک دوسرے سے ملاپ ہو جاتا ہے اور اس میں بڑی برکت ہے۔اس میں بڑی خوشی کے سامان ہیں اور میں نے اپنی آنکھوں سے نظارہ دیکھا ہے کس طرح خوشی کے ساتھ پاکستان کے دوست غیر ممالک سے آنے والے بھائیوں کے ساتھ ملاقات کر رہے ہوتے ہیں۔ایک جذبہ ہوتا ہے، ایک تڑپ ہوتی ہے، ایک دوسرے سے