خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 373
خطبات ناصر جلد هشتم ۳۷۳ خطبہ جمعہ ۲۱ / ستمبر ۱۹۷۹ء انشقاق نہ ہو۔جو ایک دوسرے میں ملے جلے ہوں اور جن کو الَّفَ بَيْنَ قُلُوبِهِمْ ایک جان کر دیا گیا ہو لیکن اس عظیم وحدت کا ہر فرد اپنے طور پر جیسا کہ میں نے بتایا، اپنے نفس کا ذمہ دار ہے جہاں تک اس کی جزا اور سزا کا تعلق ہے لیکن وہ ذمہ دار ہے اپنے معاشرہ کا اس معنی میں کہ وہ ساری اُمت یا اپنے سارے حلقہ میں وہ معاشرہ اجتماعی رنگ میں پیدا کرنے کی کوشش کرے جو اسلام پیدا کرنا چاہتا ہے۔یہ کوشش جیسا کہ ابھی میں نے مختصر ابتا یا فرض کے طور پر بھی ہے جیسے نماز باجماعت یا جیسے حج اور نفل کے طور پر بھی ہے جیسے حج کے لحاظ سے عمرہ یا جیسے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے تراویح کو جو نوافل تھے اکٹھا کر دیا اور باجماعت پڑھوانا شروع کر دیا یا جیسے اجتماعی دعا ئیں ہو جاتی ہیں۔وہ اپنی ظاہری شکل کے لحاظ سے نماز نہیں لیکن نماز کا اس لحاظ سے تعلق ہے کہ نماز "الصلوةُ الدُّعَاء ، صلوۃ کے معنی ہی ہیں دعا کرنا خدا تعالیٰ کے حضور عاجزانہ جھک کر۔تو دعا ئیں انفرادی بھی کی جاتی ہیں يَذْكُرُونَ اللَّهَ قِيمًا وَقُعُودًا وَ عَلَى جُنُوبِهِمْ (آل عمران: ۱۹۲) اُٹھتے بیٹھتے کھڑے ہوتے لیٹتے ہوئے انسان اللہ تعالیٰ کو یاد کرتا اور اس کی حمد وثنا کرتا اور اس کی عظمت اور عُلُو شان کے ترانے گاتا ہے، اسے یاد کرتا ہے، اس سے مانگتا ہے، اس کے پیروں میں لوٹتا ہے، اپنی عاجزی کا اظہار کرتا ہے لیکن با جماعت یا نفلی شکل میں جو نماز ہم پڑھتے ہیں وہ شکل تو نہیں ہے لیکن ہے وہ بھی دعا۔دعا جو ہے وہ انفرادی بھی ہے جس طرح صلوٰۃ کا ایک حصہ انفرادی بھی ہے سنتیں ہیں وہ نماز کی طرح ہی پڑھی جاتی ہیں فرض نہیں ہیں اور مستحب یہ ہے کہ انسان مسجد کی بجائے اپنے گھر میں پڑھے۔اس میں انفرادیت زیادہ آجاتی ہے۔تو فرض کے طور پر بھی اجتماعی عبادات ہیں اور نفل کے طور پر بھی ہیں۔نفل کے طور پر جو عبادات ہیں ان کا حلقہ بڑا وسیع ہے۔جیسے میں نے کہا دوست اکٹھے ہو کے دعائیں کرتے ہیں، اجتماع ہوتے ہیں، جلسے ہوتے ہیں، وعظ کی مجلسیں ہیں۔جو سنانے کا حق رکھتے ہیں ان سے سننے کے لئے جمع ہونے کے مواقع ہیں۔مثلاً حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس چلے جاتے تھے صحابہ اور ان سے بھی علم سیکھتے تھے ، دوسرے صحابہ سے علم سیکھتے تھے۔جو بہت سارے ہمارے بزرگ گذرے ہیں وہ مسجدوں میں یا اپنے گھروں میں بیٹھ جاتے تھے اور آنے والوں کے کانوں میں نیکی کی باتیں ڈالتے رہتے تھے۔