خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 363 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 363

خطبات ناصر جلد ہشتم ۳۶۳ خطبہ جمعہ ۷ استمبر ۱۹۷۹ء انصاف کی اس میں الہی منشا اور قانون کے مطابق حق نے جیتنا ہے آخر کار جھوٹ اور ظلم نے پسپا ہونا ہے آخر کا رلیکن مخالفت ہو رہی ہے۔اسلام مختلف ادوار میں سے گذرتا ہوا ترقی کرتا چلا جارہا ہے اور اب الہی منشا کے مطابق هُوَ الَّذِى اَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِهِ وَ لَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُونَ (الصف:۱۰) تمام ادیان باطلہ پر یہ بنیادی حقیقت کائنات کہ اللهُ الْحَق اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم الحق کے مظہر اتم حق اور آپ کی تعلیم حق و صداقت پیش کرنے والی ایک عظیم تعلیم ہے۔دنیا اسے پہچانے گی ، دنیا اس سے فائدہ اٹھانے پر مجبور ہو جائے گی اپنی ناکامیوں کے بعد اور جیسا کہ یہ خوشخبری دی گئی ہے جو نہ ماننے والے ہوں گے اللہ تعالیٰ اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ استثنائی طور پر چند لوگ ایک فیصد یا اس سے بھی کم فیصد رہ جائیں گے۔ایک نمونہ انسان کو بتانے کے لئے کہ اسلام سے پرے ہٹ کر یہ شکل بن جاتی ہے کہ نہ ماننے والے چوڑھے چماروں کی طرح رہ جاتے ہیں۔یہ تو دن آنے والا ہے لیکن جماعت کو یہ یا د رکھنا چاہیے کہ قرآن کریم نے ہمیں پہلے کہہ دیا تھا کہ ان کی زبانوں سے تمہیں بڑی ایذا والی باتیں سنی پڑیں گی۔قرآن کریم نے کہا تھا کہ حق و باطل کی اس جنگ میں تمہیں صبر کرنا پڑے گا صبر کرو۔قرآن کریم نے کہا تھا کہ حق و باطل کے اس مقابلہ میں دعاؤں کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ کی مدد اور نصرت تمہیں حاصل کرنی ہوگی اس کے حضور عاجزانہ جھکو اس سے دعائیں مانگو اس کی مدد طلب کرو اس سے کہو کہ اے خدا! تیری راہ میں پہلوں نے بھی قربانیاں دیں، ہم ان سے پیچھے نہیں رہیں گے انشاء اللہ اور لیکن جس طرح تیری رحمتیں پہلوں پر نازل ہوئیں اس طرح ہم پر بھی تیری رحمتیں نازل ہوں۔ہم اپنی طاقت اور قوت سے ثبات قدم نہیں پیش کر سکتے تیرے حضور تو فرشتوں کی مدد نازل کرتا کہ ہمیں ثبات قدم حاصل ہو، ہمیں استقامت ملے صراط مستقیم پر (جس کو میں اب اس زمانہ کے لحاظ سے شاہراہ غلبہ اسلام کہتا ہوں ) آگے سے آگے چلنے کی توفیق دے اور جلد ہی وہ دن آئے اور ہم اپنی آنکھوں سے دیکھیں کہ اسلام کی تعلیم اپنے بحسن و احسان کی وجہ سے نوع انسانی کے دل جیت کر تمام دنیا میں غالب آجائے اور لوگ محبت اور پیار کے مقابلہ میں تلوار اور ایٹم بم کو کوئی چیز نہ سمجھنے لگیں اور وہ یہ سمجھ جائیں کہ ان کی کوئی حیثیت نہیں ہے پیار اور