خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 362
خطبات ناصر جلد ہشتم ۳۶۲ خطبہ جمعہ ۷ استمبر ۱۹۷۹ء چاہتے ہو تو تمہیں جھوٹ چھوڑ کے راستی کی راہوں کو اختیار کرنا پڑے گا اور تمہیں ظلم سے اجتناب کرتے ہوئے حق وانصاف کے طریقے استعمال کرنے ہوں گے لیکن وہ حق وصداقت کے مقابلہ کو ہنسی کھیل سمجھتے ہیں اور خدائے قہار کے اندار کی وہ پرواہ نہیں کرتے۔پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔إِنَّ اللهَ لَا يَهْدِى مَنْ هُوَ مُسْرِفُ كَذَّابُ (المؤمن :۲۹) جو حد سے بڑھ جائے اور بہت جھوٹ بولنے لگ جائے وہ کامیابی کی راہیں نہیں پاتا کامیاب نہیں ہوتا۔عربی کے محاورہ میں کذاب کے یہ معنی نہیں کہ بڑے جھوٹ بولنے والے پر خدا کی گرفت آئے گی اور چھوٹے چھوٹے جھوٹ بولنے والوں کو خدا تعالیٰ نے کھلی چھٹی دے دی بلکہ عربی محاورہ میں کذاب یا اس صیغے میں جو الفاظ آتے ہیں اس کے معنی یہ ہوتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نہ بڑے جھوٹ کو بغیر گرفت کے چھوڑے گا نہ کسی چھوٹے سے چھوٹے جھوٹ کو بغیر گرفت کے چھوڑے گا۔اگر تم سچ کے مقابلہ میں جھوٹ کی راہوں کو اختیار کرو گے تو خواہ وہ چھ لین (Lane) والی بڑی بڑی تمہاری آٹو باہن Auto Bahn) ہوں جھوٹ کی یاوہ پگڈنڈیاں ہوں خدا تعالیٰ کی گرفت کے نیچے آؤ گے تم اور کبھی تم کامیاب نہیں ہو سکتے اپنی کوششوں میں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ہم نَقْذِفُ بِالْحَقِّ عَلَى الْبَاطِلِ فَيَد مَنْه فَإِذَا هُوَ زَاهِقٌ (الانبیاء : ۱۹ ) حق کو باطل پر اٹھا مارتے ہیں اور وہ اس کا سر توڑ دیتا ہے اور وہ باطل فوراً ہی بھاگ جاتا ہے۔بات یہ ہے کہ جھوٹ میں فی نفسہ نا کامی کا خمیر ہے اور صداقت اور حق کے اندر فی نفسہ کامیابی اور فوقیت حاصل کرنے کی صفت پائی جاتی ہے۔اسی لئے فرمایا:۔وَقُلْ جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا (بنی اسرآءيل: ۸۲) سب لوگوں سے کہہ دے کہ قرآن عظیم جو فرقان کی حیثیت رکھتا ہے وہ آ گیا ، حق آ گیا قرآن کریم کی شکل میں فرقان عظیم کی شکل میں اور اب باطل کے لئے سوائے بھاگ جانے کے اور کوئی راستہ نہیں۔اِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا باطل کی بنیادی صفت بھا گنا ہی ہے وہ حق کے مقابلے میں ٹھہر نہیں سکتا۔تو یہ جو جنگ ہے حق اور باطل کی ، راستی اور ناراستی کی ، سچ اور جھوٹ کی ظلم اور عدل اور