خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 361 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 361

خطبات ناصر جلد هشتم ۳۶۱ خطبہ جمعہ ۷ استمبر ۱۹۷۹ء محبت کے ساتھ نوع انسانی کے دل جیتے۔اس کے مقابلے میں ظلم بھی کیا گیا اور جھوٹ بھی بولا گیا اور فریب سے بھی کام لیا گیا اور دھوکہ دہی بھی کی گئی لیکن اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَاللهُ لَا يُحِبُّ الظَّلِمِينَ اللہ تعالیٰ ظالموں کو اپنی رضا پیار اور محبت سے محروم کر دیتا ہے۔اس لحاظ سے بنی نوع انسان کے دو گروہ بن گئے۔ایک حقیقی مسلمان جو نہ جھوٹ بولتا ہے نہ ظلم کرتا ہے ایک مخالف اسلام جس کی تمام مخالفانہ کوششیں ظلم اور جھوٹ کے گرد گھومنے والی ہیں تو ان کو کہا دیکھو سمجھ سے کام لو اللہ تعالیٰ ظالموں کو اپنی رضا ، اپنے پیار اور محبت سے محروم کر دیتا ہے۔یہ الِ عمران: ۱۴۱۔پھرسورۃ مائدة : ۵۲ میں فرماتا ہے کہ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّلِمِین کا میابی ظالموں کے نصیب میں نہیں ہوتی۔وقتی طور پر عارضی رنگ میں دنیوی لحاظ سے بعض دفعہ کا میابی نظر آتی ہے لیکن وہ دیر پا نہیں ہوتی۔وہ حقیقی نہیں ہوتی وہ حقیقی خوشیوں کا باعث نہیں بنتی۔وہ دکھوں کو دور کرنے والی نہیں ہوتی۔وہ اللہ تعالیٰ کے پیار کو حاصل کرنے والی نہیں ہوتی۔جس پر تمام خوشیوں کا مدار ہے۔پھر سوره انعام آیت ۵۹ میں فرمایا۔واللهُ اَعْلَمُ بِالظَّلِمِينَ اللہ تعالیٰ ظالموں کی ظالمانہ کرتوتوں سے خوب واقف ہے اور اگر وہ سمجھیں کہ ہم خدا تعالیٰ کی گرفت اور اس کے قہر سے محفوظ ہیں تو ظلم کرنے سے پہلے یہ سوچ لیں کہ ایک دن خدا تعالیٰ کا دست قہران کی گردن کو پکڑے گا اور سزا دے گا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے سورۃ کہف میں۔وَيُجَادِلُ الَّذِينَ كَفَرُوا بِالْبَاطِلِ لِيدُ حِضُّوا بِهِ الْحَقِّ وَاتَّخَذُوا أَيْتِي وَمَا أَنْذِرُوا هُرُوا (الکھف: ۵۷) اور جن لوگوں نے انکار کیا اور کفر کی راہوں کو اختیار کیا اور اسلام کی مخالف سرگرمیوں میں پڑ گئے وہ جھوٹ کے ذریعہ سے جھگڑتے ہیں۔جھوٹ کے ذریعہ سے اس لئے جھگڑتے ہیں کہ جو حق ہے اس کو مٹا دیں۔یعنی ان کی ساری کوششیں جھوٹ کے گرد، ظلم کے گرد گھومتی ہیں اور وہ اس خیال میں ہیں کہ ان کی مفتر یا نہ تقریریں اور تحریریں اور بیان سچ کو مٹادیں گے اور وہ میرے نشانوں سے استہزاء کرتے ہیں اور میرے انذار کو بھول گئے ہیں اور ہنسی کا نشانہ انہوں نے بنالیا ہے اسے حالانکہ انہیں محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اچھی طرح متنبہ کر دیا تھا کہ دیکھو اگر تم حقیقی خوشیاں حاصل کرنا چاہتے ہو اور اس ورلی زندگی میں بھی ایک جنت کا معاشرہ قائم کرنا