خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 269 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 269

خطبات ناصر جلد ہشتم ۲۶۹ خطبہ جمعہ ۶ جولائی ۱۹۷۹ء خطبہ دیا کہ کوئی احمدی رات کو بھوکا نہیں سوئے گا اور میں نے دو حدیثیں بیان کیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا ایک جگہ کہ ایک کا کھانا دو کے لئے کافی ہے۔دو کا چار کے لئے۔ایک جگہ فرمایا کہ ایک کا تین چار کے لئے کافی ہے یعنی ایک سے زیادہ۔ایک کا کھانا دو سے زیادہ نسبت سے کافی ہے، وہ اس وقت وہ نسبت مجھے یاد نہیں رہی۔بہر حال سمجھ لو کہ مثلاً یہ کہہ دیا کہ ایک کا چار کے لئے کافی ہے۔وہ دونوں حدیثیں اسی ضمن میں میں نے پڑھیں تو میں نے سوچا کہ یہ دوسری جو ہے یہ امیروں سے تعلق رکھتی ہے یعنی بعض گھرانے ایسے ہیں غریب جو اپنی ضرورت کے مطابق کھانا پکا رہے ہیں۔وہ اگر دو آدمی میاں بیوی ابھی بچہ کوئی نہیں کھانے والا دودھ پیتا مثلاً بچہ ہے ماں کی گود میں تو وہ دو آدمیوں کا فکر کر سکتا ہے اگر کوئی دو بھو کے ہیں تو ان کو کہہ سکتا ہے آؤ ہم اکٹھے مل کے کھا لیتے ہیں۔چار کھالیں گے۔لیکن ایک امیر ہے اگر اس کے ہاں دو کا پکا ہوا ہے تو وہ دس کو بھی کھلا سکتا ہے۔پہلے جماعت نے ذرا توجہ دی تھی۔اب مجھے بعض نے کہا ہے کہ بعض دفعہ سستی کرتے ہیں، یہ بڑی غلط بات ہے۔جماعت احمدیہ میں کوئی شخص رات کو بھوکا نہیں سونا چاہیے جس کا مطلب یہ ہے کہ اپنے ہمسایوں کا خیال رکھو۔اپنے محلے والوں کا خیال رکھو۔مجھے ایک غیر احمدی دوست نے بڑا پیارا خط لکھا۔مجھے انہوں نے خط لکھا کہ میں نے یہ آپ کا خطبہ پڑھا۔پر میں آپ سے یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ ہم نے آپ کا کیا گناہ کیا کہ آپ نے ہمارے متعلق نہیں کہا کہ ہم بھوکے نہ سوئیں رات کو۔خیر میں نے ان کو کہا کہ بات یہ ہے کہ جہاں تک میرے دل کے جذبات کا تعلق اور احساسات کا تعلق ہے، میرا دل یہی پکارتا ہے کہ کوئی انسان رات کو بھوکا نہ سوئے لیکن اگر میں بول پڑتا یہ کلمات تو بہت سارے لوگ مجھ پہ بڑا غصہ کرتے اور اعتراض کرتے ، الزام لگاتے۔تو ویسے جو لوگ سب انسانوں کو انسان سمجھ کے ایک دوسرے کے ساتھ ہمدردی کرنے کو اسلامی تعلیم کا جزو سمجھتے ہیں وہ سارے شامل ہیں میرے اس اعلان میں کہ کوئی شخص بھی رات کو بھوکا نہ سوئے اور وہ تو کم سے کم غذا ہے نا۔لیکن جو اعلان کیا گیا ہے وہ مناسب حال متوازن غذا۔اب میں آپ کو ایک مثال دیتا ہوں جو میرا مشاہدہ ہے۔اس واسطے میں نے کہا تھا کہ اسی فیصد Small Holding کا مالک آٹھ دس بارہ ایکڑ کا مالک