خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 270
خطبات ناصر جلد ہشتم ۲۷۰ خطبہ جمعہ ۶ جولائی ۱۹۷۹ء زمیندار اس کا حلیہ یہ ہے جو میں نے کہا تھا نا وہ دراصل غلام ہے اپنے تین بیلوں کا ، اپنے ہل کا۔ایک دفعہ ہم سیر کو نکلے۔ہم بہت سارے اپنے بھائی چازاد بھائی وغیرہ کبھی کبھی آرام بھی کیا کرتے ہیں۔تو ربوہ سے پچیس تیس میل کے اوپر ہم گئے تھے۔وہاں ایک وہ بیل والا ہل جو بیل سے رہٹ پانی نکالتا ہے پنجابی میں ٹنڈیں“ کہتے ہیں ان کو۔تو میں نے کہا۔اس سے ہم نے دو چار فرلانگ آگے جانا تھا میں نے کہا ٹھہر جاتے ہیں پانی مل جائے گا۔تو وہاں ہم ٹھہر گئے۔موٹروں سے اترے۔ہمارے ساتھ اپنا کھانا وغیرہ ہوتا ہے وہ سارا نکالا یعنی کیمپ اپنا بند کر دیا۔باقی۔۔۔۔وہاں میں چلا گیا وہاں اسی وقت۔وہ ساری رات اس نے جیسا کہ طریق ہے زمیندار کا اس کے اوپر بیٹھ کے پانی نکالا اپنی زمینوں کو ساری رات پانی دیتے ہیں یہ۔اس کے گھر والی اس کا کھانا لے آئی۔تو میں نے کہا دیکھیں ساری رات اس نے محنت کی ہے کھانے کو کیا مل رہا ہے بیچارے کو۔میں چلا گیا اس کے پاس وہ ہاتھ منہ دھو کے جیسا کہ عادت ہے وہ چوکڑی نہیں مارتے اکڑوں بیٹھ جاتے ہیں۔وہ بیٹھا ہوا سامنے اس کے رومال بچھا ہوا وہ کھانا کھانے لگا تھا۔میں نے سلام کیا۔میں نے ہنس کے کہا میں مہمان آیا ہوں اور تم مجھے کھانے کو نہیں پوچھو گے؟ وہ شریف آدمی کہے آئیں بیٹھیں کھانا کھا ئیں تو میں بیٹھ گیا اس کے ساتھ۔تو میں نے تو چکھنا ہی تھا ، دیکھنا ہی تھا کیا کھاتا ہے تو وہ باجرے کی بڑی موٹی روٹی اور میں نے ذرا سا ٹکڑا لیا توڑا اور ساتھ سرخ مرچ کی پسی ہوئی چٹنی یعنی ساری رات اس شریف آدمی نے کام کیا اور صبح اس کے حصے میں غذا یہ آئی ہے۔تو میں نے۔میں مرچ کھاتا نہیں مجھے تکلیف ہوتی ہے اس کی تو میں نے ٹکڑا لے کے وہ چبا یا اتنا لذیذ کہ کوئی حد نہیں۔خیر میں نے اس کا شکر یہ ادا کیا۔اٹھا تو وہ کہنے لگا نہیں اور کھائیں نہیں۔میں نے کہا جو پتا لینا تھا وہ پتا لے لیا۔میں نے تو اس کو اپنا استاد بنالیا نا۔یہ آدمی جوساری رات پانی دیتا ہے اور صبح کے وقت اس کے حصے میں سرخ مرچ کی پسی ہوئی چٹنی آتی ہے اس کو پوچھنے والا کوئی نہیں ہمارے ہاں؟ حالانکہ اس کا حق ہے۔اس کو جو تجربہ رکھتے ہیں ، جو علم رکھتے ہیں ان کا فرض ہے کہ اسی زمین میں ان کو دودھ اور مکھن اور لسی مل سکتی ہے لیکن ان کو بتانے والا کوئی نہیں۔مثلاً اگر تین بیل ، یہ جو ایک ہل ہے ویسے تو دو بیل چلاتے ہیں نا