خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 268
خطبات ناصر جلد ہشتم ۲۶۸ خطبہ جمعہ ۶ جولائی ۱۹۷۹ء آئے ہوئے ہیں وہ بھی اور میں بھی اور میرے بچے بھی اور ہمارا خاندان بھی اور جماعت کے عہدیدار بھی اور جماعت کے کارکن بھی ، آج ہم سارے ایک روٹی سے زیادہ نہیں کھائیں گے۔تو ان سے میں نے بات کی تھی میرا اندازہ تھا کہ ایک روٹی ہر ایک کو مل جائے گی۔ہم ایک روٹی کھائیں گے اور خدا تعالیٰ نے یہ بڑی عجیب جماعت پیدا کی ہے مجھے بعد میں پتا لگا کہ کئی لوگوں نے کہا کہ پھر اب جب ایک وقت ایک روٹی کھائی ہے تو سارے جلسے میں ایک روٹی کھائیں گے کیا فرق پڑتا ہے۔اس قسم کے اخلاص والے بھی ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اشعر قبیلہ کے لوگوں کا یہ طریق ہے۔انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سن کے اور اُسوہ دیکھا ممکن ہے کوئی ان میں سے اس غزوہ میں شامل بھی ہوجس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اکٹھا کر لیا اور وہ سب کو۔۔۔۔کہ جب کسی سفر میں خوراک کا ٹوٹ پڑ جاتا ہے یا حضر کی حالت میں ہی ان کے اہل وعیال کی خوراک میں کمی آجاتی ہے یعنی ایک حصہ کی خوراک میں کمی آجاتی ہے تو ایسی صورت میں وہ سب لوگ اپنی اپنی خوراک ایک جگہ جمع کر لیتے ہیں اور پھر اس جمع شدہ خوراک کو ایک ناپ کے مطابق برابر، ہر ایک کو امیر غریب۔ایک ناپ کے مطابق سب لوگوں میں مساویانہ طریق پر بانٹ دیتے ہیں۔یہ وہ لوگ ہیں۔آپ فرماتے ہیں۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں یہ وہ لوگ ہیں جن کا میرے ساتھ حقیقی جوڑ ہے اور میرا ان کے ساتھ حقیقی جوڑ ہے۔تو اسلام یہ اعلان کرتا ہے آج دُنیا میں کہ دنیا کا کوئی طبقہ ایسا نہیں رہنے دیا جائے گا جس کو متناسب اور متوازن غذا نہ ملے اور ایک طبقہ موجود ہو جو عیش کر رہا ہو کھانے کو۔ایک طبقہ موجود ہو کہ امریکہ کے متعلق کہا ہے پتا نہیں صحیح ہے یا نہیں لیکن کسی جگہ میں نے پڑھا تھا کہ بعض دفعہ وہ فخر کرتے ہیں کہ جتنا ہم اپنی رکابیوں میں بچا کے پھر پھینک دیتے ہیں اس سے یہ جو غریب ممالک ہیں پاکستان ، ہندوستان جیسے ان کا پیٹ پالا جا سکتا ہے۔تو قرآن کہتا ہے یہ فخر کی بات نہیں یہ تو ہلاکت کے سامان پیدا ہورہے ہیں۔تمہیں اپنی فکر کرنی چاہیے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بنی نوع انسان سے بڑا پیار تھا۔ایک دفعہ میں نے یہ