خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 267 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 267

خطبات ناصر جلد ہشتم ۲۶۷ خطبہ جمعہ ۶ / جولائی ۱۹۷۹ء راستہ بھول جانے کی وجہ سے ابھی ہم منزل مقصود کو پہنچے ہی نہیں تھے وہ کہتے ہیں ہم راستہ میں ہی تھے کہ ہمارا زاد کم ہونا شروع ہو گیا۔تو جو تین سو میں سے غریب تھے جن کے پاس تھوڑا کھانا تھا ساتھ ان کو مشکل پیش آگئی۔تو ابو عبیدہ نے حکم دیا کہ سب لوگوں کی خوراک کا ذخیرہ جمع کرلیا جائے۔جو امیر تھے اس پارٹی کے تین سے کے، ان سے ان کی ، ان کے پاس جو کافی تھا ذخیرہ ان کو کہا اکٹھا کرو یہاں سب برابر۔تو یہ سارا جمع شدہ ذخیرہ ابوعبیدہ نے ، وہ تھوڑا ہی بنا ویسے، اس ذخیرہ میں سے تھوڑی تھوڑی خوراک تقسیم کرتے تھے۔حتی کہ یہ ذخیرہ اتنا کم ہو گیا کہ بالآخر ہمارا راشن صرف ایک کھجور فی کس پر آ گیا۔تو جس کے پاس اتنا راشن تھا کہ وہ جس دن ان کو سب کو فی کس ایک کھجور ملی اس دن وہ ہیں کھجوریں کھا سکتا تھا تو حضرت ابو عبیدہ نے کہا یہ سنتِ نبوی نہیں آج تم ہیں کھجور نہیں کھا سکتے اپنی۔آج تم ایک کھجور کھاؤ گے۔جو سائل اور محروم کو ملے گی ، اتنی کھاؤ گے لیکن جب ان کو ان کی ضرورت کے مطابق متوازن غذامل رہی تھی اس وقت اپنے مال سے ، ذخیرے سے جو مرضی کرتے تم۔اور تیسرا فرمان ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا۔ایک اشعر قبیلہ ہے ان لوگوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتِ نبوی پر جس طرح وہ عمل کرتے تھے انہوں نے اپنے قبیلہ کی روایت یہ بنائی تھی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نا وہ روایت بن گئی۔اس کو یہ تو اپنی شان کے ساتھ ہے یہ میں بعد میں بیان کروں گا اس کی ایک تھوڑی سی جھلک ہمیں اس جلسے یہ نظر آئی جب صبح کی نماز کے وقت مجھے مسجد میں بتایا گیا کہ نانبائیوں کے کام نہیں پورا کر سکے کسی وجہ سے تو روٹیاں نہیں تیار ، تو اب کیا کریں ہم ؟ ہم وقت پر کھانا نہیں کھلا سکتے۔پوری روٹی لے کے دو یا تین روٹیاں جتنی بھی ملتی ہیں فی کس نہیں تیار۔یا آپ پیچھے ڈالیں جلسہ کی تقاریر کا پروگرام۔میں نے ان کو کہا یہ تو نہیں ہوگا۔میں نے کہا کہ یہ تو نہیں ہو گا تم اپنے وقت کے اوپر جو بھی ہے تقسیم کرو۔میں نے نماز کے بعد یہ اعلان کیا کہ یہ واقع ہو چکا ہے اور کھانا وقت پر نہیں مل سکتا۔ہم روحانی غذا نہیں چھوڑیں گے جسمانی غذا کی قربانی دیں گے اور جن کے گھروں میں روٹیاں پکتی ہیں یا جو کھانے کا اپنا یعنی باہر سے بھی آنے والے انتظام کرتے ہیں ان کو میں کہتا ہوں کہ وہ بھی اور جو باہر سے