خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 164 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 164

خطبات ناصر جلد هشتم ۱۶۴ خطبه جمعه ۲۰ ۱۷ پریل ۱۹۷۹ء کی بجائے درختوں نے تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت کے نشان نہیں دکھانے تھے۔کسی انسان نے ہی دکھانے تھے۔اتباع محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ میری بعثت سے پہلے کے دوصد سال اسلام کے انتہائی تنزل اور انحطاط کے سال تھے لیکن یہ نہ سمجھنا کہ یہ زمانہ محمدصلی اللہ علیہ وسلم پر کوئی اعتراض پیدا کرتا ہے۔نہیں بلکہ اس زمانہ میں بھی خدا تعالیٰ کے پیار کو حاصل کرنے والے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر فدا ہونے والے ہمارے بزرگ ٹھاٹھیں مارتے دریا کی طرح تھے۔لاکھوں کی تعداد میں پائے جاتے تھے اس تنزّل کے زمانہ میں بھی اور جوت نزل کا زمانہ نہیں تھا بلکہ اللہ تعالیٰ کے فضلوں اور ترقیات کا زمانہ تھا اس کا تو کہنا ہی کیا۔اب وہ زمانہ پھر آگیا ہے اور مہدی کے زمانہ کے متعلق کہا گیا تھا کہ بچے بھی نبوت کریں گے یعنی ان کو بھی سچی خوا ہیں آئیں گی۔یہ نہیں کہ وہ نبی بن جائیں گے۔یہ لغوی معنی میں ہے کہ آئندہ کی خبر دینے والے۔۷۴ء میں میں نے بہتوں کو تسلی دینی تھی کثرت سے احباب آتے تھے۔سارا دن میرا یہی کام تھا۔پیار کرتا تھا۔تسلی دیتا تھا۔بچے بھی آتے تھے میں پوچھتا تھا تمہیں سچی خوا میں آئیں بچو! کئی بچے کھڑے ہو جاتے تھے۔ہر روز ہر گروہ میں کہ خواب آئی اور اس کے مقابلے میں ایسے لوگ بھی آج ہیں جو کہتے ہیں کسی مسلمان کو سچی خواب نہیں آسکتی۔بندہ خدا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت کو ثابت کرنے کے لئے خدا تعالیٰ نے نشانوں کا یہ جو دروازہ کھولا ہے یہ کبھی بھی بند نہیں ہو سکتا۔کوئی اسے بند نہیں کر سکتا۔قصے کہانیوں سے تو انسان تسلی نہیں پاتا۔قصے تو مبالغہ آمیز طریقے پہ ہندوؤں نے اپنی کتابوں میں اپنے رشیوں کے متعلق لکھے ہوئے ہیں اور اتنا مبالغہ کیا ہے کہ میں نے میٹرک کا امتحان دیا۔ہندوؤں کی تاریخ کا بھی پچاس نمبر یا ساٹھ نمبر کا پرچہ تھا۔میں نے پڑھا ہی نہیں۔میرے ساتھیوں نے کہا کہ آپ پڑھتے نہیں۔میں نے کہا انہوں نے آپ بنائی ہے تاریخ۔میں امتحان کے کمرے میں خود بنالوں گا۔پڑھنے کی کیا ضرورت ہے۔پڑھے تو وہ جہاں کوئی واقعہ ہوا اور اس کو مؤرخ نے لکھا۔جب انہوں نے تاریخ آپ بنالی۔میں بھی آپ بنالوں گا۔اور میں نے آپ بنائی ان کی تاریخ اور بہت اچھے نمبر دیئے ممتحن نے مجھے۔تو قصے تو کافی