خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 163 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 163

خطبات ناصر جلد هشتم ۱۶۳ خطبه جمعه ۱۷۲۰ پریل ۱۹۷۹ء چھوٹوں سے شفقت کا سلوک نہیں کرے گا تو وہ اسلامی تعلیم پر عمل نہیں کرتا۔میں نے کہا ایک دن صبح بغیر کسی اطلاع کے چودہ ہیلی کا پڑ ایک بڑے ملک کے۔ایک چھوٹے سے ملک کے ایک جزیرے میں اُتر گئے اور وہاں قبضہ کر لیا۔ایک گولی نہیں چلی۔کوئی جنگ کا اعلان نہیں ہوا۔کچھ نہیں۔اور وہاں جا کے ہیلی کا پڑا تارے اور قبضہ کر لیا دوسرے کی زمین پر۔میں نے کہا یہ تو تم ایک دوسرے کا احترام کرتے ہو نہ احساس کا ، نہ عزت کا ، نہ کسی کے مال کا احترام کسی کا حق نہیں ہے کہ کسی کی چیز غصب کرے۔تو اتنی عظیم تعلیم ہے اسلام کی اور جو آج کے مسائل ہیں وہ اسلام حل کرتا ہے لیکن خالی دلائل کافی نہیں ( یہ آپ یاد رکھیں ) آج کی دنیا میں اسلام کا مخالف صرف مذہب نہیں بلکہ دہریت بھی ہے جنہوں نے خدا سے انکار کر دیا جنہوں نے کہا کہ ہم زمین سے خدا کا نام اور آسمانوں سے اس کے وجود کو مٹا دیں گے اس دہریت کے سامنے۔جب آپ دلیل دیں گے تو ان کا دماغ کوئی اور دلیل سوچ لے گا اور تسلی پالے گا۔انسان کو خدا نے ایسا بنا یا ہے کہ جھوٹی دلیل سے بھی وہ تسلی پالیتا ہے لیکن آسمانی نشانوں کو Explain نہیں کرسکتا۔کوئی دماغ ایسا نہیں کر سکتا۔تو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت پر خدا تعالیٰ نے اربوں آسمانی معجزات دکھائے یہ تو ایسا سمندر ہے جس کی انتہا ہی کوئی نہیں۔صبح شام خدا تعالیٰ دکھا رہا ہے ایسے نشان اور صداقت ظاہر ہوتی ہے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تاکہ وہ مشن پورا ہو جس کے لئے آپ آئے اور وہ مشن یہ ہے کہ انسان اپنے پیدا کرنے والے رب کو پہچانے اور ہر قسم کے شرک سے پاک ہو اور خدائے واحد و یگانہ کی گود میں چلا جائے اور ہر قسم کا پیار اس سے حاصل کرنے لگ جائے۔یہ مقصد ہے انسانی زندگی کا۔اس مقصد کو پورا کرنے کے لئے محمد صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تھے۔اس مقصد کو پورا کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے روز بر دست سمندر پیدا کئے ایک دلائل کا سمندر ایک آسمانی نشانوں کا سمندر اور اُمت محمدیہ میں دلائل بھی کسی انسان نے دینے ہیں؟ خدا تعالیٰ ہی متبعین کو دلائل سکھاتا ہے۔کوئی انسان بھی جب تک محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع میں فانی نہیں ہوتا خدا کے پیار کو حاصل نہیں کرتا اور نشان بھی انسان کے ذریعہ ہی دکھائے جاتے تھے۔انسان