خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 160 of 864

خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 160

خطبات ناصر جلد ہشتم ۱۶۰ خطبه جمعه ۲۰ ۱۷ پریل ۱۹۷۹ء ہوگا تا کہ یہ ایک نشان ہو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے برحق ہونے پر۔پس ایک اور بات ہمیں یہ معلوم ہوتی ہے کہ اقتراحی نشان خدا تعالیٰ نہیں دکھاتا۔ایک اور بات یہ کہ مرضی خدا ہی کی چلے گی جس نشان کو چاہے گا ظاہر کرے گا جس نشان کو چاہے گا ظاہر نہیں کرے گا۔ایک اور بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے جہاں بشارتیں ہیں وہاں انداری پیشگوئیاں بھی ہیں۔گرفت کی پیشگوئی بھی ہے۔وہاں عذاب کی پیشگوئی بھی ہے یہ جلدی کر رہے ہیں کہ جلدی آجائے عذاب۔عذاب تو آئے گا مگر جب عذاب آئے گا تو ان کے کہنے کی وجہ سے نہیں آئے گا بلکہ خدا تعالیٰ کے بتائے ہوئے انذار کی وجہ سے آئے گا۔جب عذاب آیا ایک رنگ میں ان کا اپنا مطالبہ بھی پورا ہو گیا کہ یہ کہہ رہے ہیں جلدی آجائے۔جلدی نہیں آئے گا لیکن عذاب آئے گا ضرور۔اگر یہ اصلاح نہیں کریں گے۔ہر انداری پیشگوئی مشروط ہے یعنی اگر جن کے متعلق وہ انذار ہے وہ اپنی اصلاح کرلیں تو خدا تعالیٰ معاف کر دیتا ہے۔اسلام کی یہ تعلیم ہے لیکن اگر وہ اصلاح نہ کریں اور خدا کی گرفت میں آجائیں تو عذاب تو آیا لیکن مطالبہ کرنے والے کا جو مطالبہ جلدی کا تھا اس وقت نہیں آیا لیکن آیا ضرور اور جب آ گیا تو اس وقت اس کا بھی انکار کر جائیں گے۔عذاب دیکھیں گے پھر بھی انکار کر جائیں گے۔آخر جیسا کہ میں نے بتا یا ساری دنیا نے ان انذاری پیشگوئیوں کے جلوے جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت کے لئے قرآن کریم نے بیان کی ہیں، دیکھے مغرب نے بھی دیکھے، مشرق نے بھی دیکھے، شمال نے بھی جنوب نے بھی دیکھے اور جو عذاب میں ہلاک ہو گئے ان کے تو ایمان لانے کا سوال نہیں۔جو بچ گئے ان میں سے بھی بہت ساروں نے پھر بھی انکار کر دیا۔اسی واسطے خدا نے کہا کہ تمہیں پتا لگ جائے گا کہ جس چیز (عذاب) کو یہ مانگ رہے ہیں، جب خدا چاہے گا عذاب آئے گا لیکن عذاب آنے کے باوجود بھی وہ انکار کریں گے ایمان نہیں لائیں گے اور بشارتیں جو دی گئی ہیں مومنوں کے لئے اس میں حصہ دار نہیں بنیں گے۔اور آخری چیز جو اصل ہے وہ یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا دعوی ہے کہ میں ساری دنیا کے لئے اور قیامت تک کے لئے افضل الرسل، خاتم الانبیاء کی حیثیت میں مبعوث کیا گیا ہوں۔