خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 159
خطبات ناصر جلد هشتم ۱۵۹ خطبه جمعه ۲۰ ۱۷ پریل ۱۹۷۹ء اور زندہ خدا کی معرفت کی راہیں آپ نے ہم پر کھولیں اور ہمارا ایک زندہ تعلق اپنے زندہ خدا سے ان راہوں کے نتیجہ میں پیدا ہوا اور زندہ تعلق خدا سے پیدا ہونے کے بعد دلائل کے میدان میں بھی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت کے نئے سے نئے دلائل نکلتے چلے آئے پچھلے چودہ سو سال میں۔اور نکلتے چلے جائیں گے قیامت تک آسمانی نشان - محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے پیار کرنے والا شخص ایک گاؤں میں بیٹھا ہوا تھا خدا کا پیارا ، مطہر - (لَا يَمَسُّةَ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ - الواقعة : ٨٠) اس کے ذریعے اس گاؤں کو خدا تعالیٰ نے محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت ثابت کرنے کے لئے آسمانی نشان دکھائے اور جو بشی کہلاتے ہیں ، جن کو دنیا صدیوں تحقیر کی نظر سے دیکھتی رہی اتنے عظیم انسان پیدا ہوئے ہیں ان لوگوں میں جن میں سے ایک عثمان بن فودگی ہیں وہ اس قدر خدا کو پیارے تھے کہ جب ان کو خدا نے کہا کہ کھڑے ہو اور اسلام کے اندر جو بدعات شامل ہو گئی ہیں ان بدعات کو نکال دو اسلام سے اور ایک خالص اور صاف اسلام کو قائم کرو اپنے علاقہ میں۔تو اس وقت کے لوگوں نے تلوار نکال لی کہ تیری گردن اڑادیں گے تو مرتد ، واجب القتل ہے۔چھوٹی سی جماعت ان کے پاس تھی۔ان کو خدا نے کہا جب تلوار سے تیری گردن اڑانا چاہتے ہیں تو تلوار سے ہی اپنی حفاظت کر۔ان کو مسلمانوں کے خلاف جنگ کرنے کی خدا نے اجازت دی اور کئی سومیل کے فاصلہ پر بعض دفعہ ایک جنگ ہوئی ان کے متبعین کی منکرین کے ساتھ اور شام کو وہ جنگ ختم ہوئی اور مغرب کی نماز میں انہوں نے اپنے ساتھیوں کو کہا کہ اس جنگ کا فیصلہ ہوا ہے ہمارے حق میں۔وہ خدا اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے عاشق تھے اللہ کا پیارا نہیں حاصل تھا خدا تعالیٰ ان کو اطلاع دیتا تھا مگر یہ پیار ان کی کسی ذاتی خوبی کے نتیجہ میں نہیں تھا یہ ہر احمدی کو اچھی طرح یا درکھنا چاہیے۔اس قسم کا ہر پیار اس پیار کے نتیجہ میں ہے جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہمارے رب کریم کو ہے۔اُمت محمدیہ میں الہام اور وحی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت ثابت کرنے والی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے لکھا ہے کہ بلند درجہ تو علیحدہ رہا معمولی سے معمولی روحانی مقام بھی کو ئی شخص محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلے پر کھڑا ہو کر حاصل نہیں کرسکتا۔اس کے لئے تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اُسوہ کی اتباع کرنی پڑے گی اور اس کے نتیجہ میں خدا تعالیٰ کا پیار حاصل