خطباتِ ناصر (جلد 8۔ 1979ء، 1980ء) — Page 161
خطبات ناصر جلد ہشتم ۱۶۱ خطبه جمعه ۲۰ را پریل ۱۹۷۹ء ساری دنیا میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت کے نشان آنے چاہئیں۔صداقت کے نشان جو ہیں وہ دلائل کی شکل میں اور آسمانی نشانات اور معجزات کی شکل میں ہیں۔قرآن کریم نے دلائل کا جو حصہ تھا اس کے متعلق تو کہا کہ ہم تفصیل سے کھول کھول کر بیان کرتے ہیں اور اس کے متعلق یہ کہا کہ قرآنِ عظیم اپنے دلائل کے لحاظ سے ایک پہلو سے کتاب مبین اور دوسرے پہلو سے کتاب مکنون ہے، چھپی ہوئی کتاب ہے جس کا مطلب یہ تھا کہ ہر نئے زمانہ میں (لَا يَمَسُّةٌ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ ) خدا تعالیٰ کے مظہر بندے پیدا ہوں گے جو خدا تعالیٰ سے قرآنی علوم و اسرا رسیکھ کر اپنے زمانہ کے مسائل کو حل کریں گے اور اس طرح پر عظیم دلیل پیدا کریں گے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت پر اگر ایسا نہ ہو اگر اسلامی تعلیم آج کا مسئلہ حل نہ کرے تو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ دعویٰ درست نہیں رہتا کہ قیامت تک کے لئے میں نبی ہوں۔اگر آج کا انسان اپنے بعض مسائل میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے شاگرد بن کر دوزانو ہونے کی بجائے کسی اور کا محتاج ہے تو پھر تو اس کے لئے آپ رحمت نہ رہے اس مسئلے تک۔اس واسطے تفصیل میں جائے بغیر میں آپ کو بتادوں مجھے کئی دفعہ موقع ملا ہے یورپ میں جانے کا۔اور چوٹی کے دماغوں سے بات کرنے کا۔میں ان کو ہمیشہ ہی اس بات کے منوانے میں کامیاب ہوا ہوں کہ تم اندھیرے میں ہاتھ پاؤں مار رہے ہو، نہ تم اپنے مسائل کو سمجھتے ہو نہ ان کا حل تمہیں معلوم ہے جو شخص مسئلہ ہی نہیں سمجھے گا حل کیسے اس کو پتا لگے گا۔مثلاً میں نے ان کو کنونس (Convince) کیا۔انہوں نے مانا کہ یہ بات درست ہے کہ ہمارا مزدور اپنے حقوق کی حفاظت کے لئے سٹرائیک کرتا ہے لیکن اس بیچارے کو یہ نہیں پتا کہ میرا حق کیا ہے تو اپنے جس حق کا اسے علم ہی نہیں اس حق کے لئے وہ سٹرائیک کر رہا ہے؟ تو بڑا عظیم ہے یہ مذہب ، یہ تعلیم ، یہ قرآن جو ہے یہ واقع میں قرآنِ عظیم ہے۔زمانہ بدل رہا ہے۔انسانی زندگی حرکت میں ہے ایک جگہ کھڑی نہیں ہوئی۔جو معاشرہ آج سے چارسوسال پہلے تھا اس میں بڑی تبدیلیاں آگئیں۔انقلابی تبدیلیاں آگئیں۔عظیم انقلابات بپا ہو گئے۔زرعی انقلاب، صنعتی انقلاب۔یہ انقلاب وہ انقلاب، پس بہت سی انقلابی تبدیلیاں ان کے اندر پیدا ہو گئیں اور انقلابی تبدیلیاں معاشرہ میں پیدا ہونے سے انقلابی مسائل پیدا ہو گئے اور دوصدیوں سے وہ