خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 518 of 584

خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 518

خطبات ناصر جلد ہفتم ۵۱۸ خطبہ جمعہ یکم دسمبر ۱۹۷۸ء بیان کو تعلق باللہ پر ختم کیا۔فرمایا خدا تعالیٰ سے زندہ تعلق قائم کرنا، اس کے حقوق کی ادائیگی کرنا، انسانوں کا خیال رکھنا، ان کے حقوق کی ادائیگی کرنا، اپنے نفس کی طاقتوں کو ضائع نہ کرنا، خودا اپنے نفس کا خیال رکھنا، اپنے نفس کی صحیح نشو ونما کرنا، خدا تعالیٰ کے قرب کی راہوں کو اختیار کرنے کے قابل ہو جانا، یہ طاقت ہونا کہ انسان اپنے دائرہ استعداد کے اندر نیکیوں میں بڑھتا چلا جائے یہ سب کچھ اپنے زور کے ساتھ تو نہیں ہو سکتا۔یہ اس وقت تک ممکن نہیں جب تک خدا تعالیٰ سے دعاؤں کے ذریعہ قوت اور طاقت حاصل نہ کی جائے کیونکہ خدائے قادر و تو ا نا جو تقویٰ والا ہے جس نے تقویٰ کی راہیں معین اور واضح کر دیں اسی سے ہدایت مانگنی ہے کہ اے خدا ! ہمیں بھٹکنے نہ دے اور جب انسان بھٹک جائے اور اس سے بشری کمزوری سرزد ہو جائے تو اس صورت میں صرف خدا کا دروازہ کھٹکھٹانا ہے کہ اے خدا! مغفرت کی چادر میں لپیٹ لے۔اس کے بغیر تو انسان کی نجات ممکن نہیں۔پس جو لوگ جنت میں گئے ان کا بھی یہاں ذکر آ گیا یعنی جب دوزخیوں کا ذکر آ گیا کہ انہوں نے یہ کام نہیں کئے تو جنتیوں کا خود بخود آ گیا کہ انہوں نے یہ کام کئے لیکن انہوں نے اپنے زور کے ساتھ خدا تعالیٰ کے پیار کو حاصل نہیں کیا۔خدا تعالیٰ کے فضل اور اس کی رحمت کے نتیجہ ہی میں وہ خدا تعالیٰ کے پیار کو حاصل کرنے کے قابل ہوئے۔اس لئے انسان کو یہ چاہیے کہ جس مقصد کے لئے وہ پیدا ہوا ہے اس میں کامیاب ہونے کی وہ ہمیشہ کوشش کرتا رہے۔خدا تعالیٰ کے حقوق جو خود خدا تعالیٰ نے قرآن کریم میں بیان کئے ہیں ان کی ادائیگی کی طرف متوجہ رہے۔ہر انسان کی عزت اور شرف کا خیال رکھے اور ہر انسان کا حق ادا کرنے کے لئے بشاشت کے ساتھ ہر وقت تیار رہے اور اپنے نفس کو بھی کبھی نہ بھولے کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے۔وَلِنَفْسِكَ عَلَيْكَ حَق کہ تیرے نفس کے بھی حقوق ہیں اور جیسا کہ میں نے ابھی بتایا ہے جب تک کوئی شخص اپنے نفس کے حقوق ادا نہیں کرتا اور صحیح راہوں پر چل کر اپنے نفس کی نشو و نما نہیں کرتا اور خدا تعالیٰ نے اسے جو قو تیں اور استعداد یں دی ہیں ان میں صحت مند نشو و نما نہیں ہوتی اس وقت تک نہ وہ خدا تعالیٰ کے حقوق ادا کر سکتا ہے اور نہ بندوں کے حقوق ادا کر سکتا ہے۔