خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 517 of 584

خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 517

خطبات ناصر جلد ہفتم ۵۱۷ خطبہ جمعہ یکم دسمبر ۱۹۷۸ء اور لوگوں کے حقوق ادا کرنے میں کوتاہی برتی۔دوزخیوں نے تیسری بات یہ کہی اور یہ دراصل پہلی دو باتوں کی بنیاد بنتی ہے کہ انہوں نے اپنے حقوق کا بھی خیال نہیں رکھا۔خدا تعالیٰ نے انہیں زندگی دی، طاقتیں دیں،صحت دی، وقت دیا اور یہ چاہا کہ وہ معمور الاوقات رہیں۔زندگی کا کوئی لمحہ ضائع نہ جائے اور اس کے ضیاع سے نقصان نہ پہنچے لیکن انہوں نے اپنے اوقات کو کار پر لگانے کی بجائے نَخُوضُ مَعَ الْخَابِضِينَ بے حکمت اور لغو باتوں پر خرچ کیا اور اس طرح اپنی زندگی کے قیمتی لمحات کو ضائع کر کے خود اپنی Personality (شخصیت)، اپنے وجود، اپنی ہستی کو نقصان پہنچایا۔اگر خدا تعالیٰ کی نعمت سے پورا فائدہ اٹھاتے تو خدا تعالیٰ کی راہ میں پوری قربانیاں دینے کے قابل ہو جاتے لیکن انہوں نے نہ خدا کا حق ادا کیا نہ انسان کا حق ادا کیا اور نہ ہی اپنے نفس کا حق ادا کیا اس لئے خدا تعالیٰ نے انہیں جہنم میں ڈال دیا۔یہ وجہ بن گئی ان کے جہنم میں آنے کی۔خدا تعالیٰ اسی سورۃ میں آخر میں فرماتا ہے۔بیچ میں دوسری آیتیں ہیں میں ان کو چھوڑتا ہوں یہ ایک لمبا مضمون ہے۔میں صرف ایک ٹکڑے کو لیتا ہوں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔كَلَّا إِنَّهَا تَذْكِرَةُ (عبس:۱۲) قرآن کریم ایک نصیحت ہے۔فَمَنْ شَاءَ ذَكَر (عبس : ۱۳) جو چاہے نصیحت حاصل کرے ہر شخص آزاد ہے۔یہ آزادی خدا تعالیٰ نے دی ہے۔قرآن کریم کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے ایک کامل تعلیم اور کامل شریعت انسان کے ہاتھ میں دے دی ہے۔انسان پر جبر نہیں کیا گیا یعنی اللہ تعالیٰ نے انسان کو یہ نہیں فرمایا کہ تیرے لئے اس کا انکار ممکن ہی نہیں بلکہ فرمایا تیرے لئے اس عظیم تعلیم کا انکار اور اس سے بے اعتنائی برتناممکن ہے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے کسی شخص کو ہدایت دینا یا نہ دینا یہ خدا کا کام ہے۔هُوَ اهْلُ التَّقْوَى وَأَهْلُ الْمَغْفِرَةِ (المدثر : ۵۷) خدا تعالیٰ نے قرآن کریم میں نیکی کی باتیں بھی بتا ئیں اور نیکی اور تقویٰ کی راہیں بھی انسان پر کھولیں اور ان دو چیزوں میں فرق ہے۔مثلاً ایک ہے خرچ کرنا اور ایک ہے دوسروں پر خرچ کرو۔اور ان کا حق ادا کرو۔اور یہ حکم ہے لیکن کن راہوں پر چل کر صحیح خرچ ہوسکتا ہے یہ خدا تعالیٰ نے بتادیا ہے۔تقویٰ کی راہوں کی تعیین بھی خدا تعالیٰ نے کر دی ہے اور اگر انسان اپنی بشری کمزوری کے نتیجہ میں بھٹک جائے تو مغفرت اور توبہ کے سامان بھی اس کے لئے پیدا کر دیئے گئے ہیں۔اس