خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 516
خطبات ناصر جلد ہفتہ ۵۱۶ خطبہ جمعہ یکم دسمبر ۱۹۷۸ء کہ انسان کی عزت اور اس کا شرف قائم کیا جائے اور اس کو نظر انداز کرنے کا مطلب تو یہ ہی ہوتا ہے کہ گویا انسان خود بھی ذلیل ہو جائے کیونکہ یہ تو ایک چکر ہے جو چلے گا۔اگر زید بکر کی عزت نہیں کرے گا تو بکر زید کی بھی عزت نہیں کرے گا۔بہر حال یہ اجتماعی زندگی سے تعلق رکھنے والے فلسفہ اور اخلاقیات کا ایک علیحدہ مضمون ہے۔پس قرآن کریم کی ہدایت یہ بتا رہی تھی کہ خدا اپنے بندوں سے یہ چاہتا ہے کہ ہر انسان کی عزت اور شرف کو قائم کیا جائے اور قرآن کریم ہمیں یہ بتاتا ہے کہ اس ساری کائنات کو سارے انسانوں کی بہبود اور فلاح کے لئے پیدا کیا گیا ہے مثلاً گندم ہے اسے ہم نے اس موسم میں بویا ہے یا کچھ بوئی جارہی ہے۔خدا تعالیٰ اپنے فضل سے اگر ہماری کوشش میں برکت ڈالے اور اس کے نتیجہ میں ہمارا ملک گندم میں خود کفیل ہو جائے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہوگا کہ ہمارے ملک کے ایک حصے کے لئے خدا تعالیٰ نے وہ گندم پیدا کی ہے بلکہ اس میں پاکستان کے سارے شہری حق دار ہوں گے جیسا کہ دوسری جگہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے وَفِي أَمْوَالِهِمْ حَقٌّ لِلسَّابِلِ وَالْمَحْرُومِ (الذاريات :۲۰) پس دوزخیوں نے جواب دیا کہ خدا تعالیٰ نے ہر چیز پر انسان کے لئے ، اس کی فلاح کے لئے ، اس کی بہبود کے لئے ، اس کی تکالیف کو دور کرنے کے لئے ، اس کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے ، اس کی قوتوں کی نشوونما کے لئے اور اس کی ترقیات کے لئے پیدا کی تھی لیکن وہ غاصب بن گئے اور خدا تعالیٰ کی پیدا کردہ اشیاء میں جو غیر کا حق تھا اس کو بھی انہوں نے اپنا بنا لیا اور دوسرے لوگوں کو محروم کر دیا اور یہ خیال نہ کیا کہ اس دنیا میں انسان انسان میں فرق کرنے کی بہت سی حکمتیں ہیں جنہیں قرآن کریم نے دوسری جگہ بیان کیا ہے اور اس کے نتیجہ میں یہ نظر آتا ہے کہ کچھ گندم پیدا کرنے والے اور کچھ گندم کے مالک بن جانے والے اور کچھ کپڑا بنانے والے اور ان کے مالک بن جانے والے اسلام کی تعلیم کے مطابق یہ سارے پھر بانٹ کے کھانے والے ہیں۔غرض دوزخیوں سے سوال یہ تھا کہ تمہیں دوزخ کی طرف کیا چیز لے گئی تو انہوں نے کہا کہ انہیں دوزخ کی طرف لے جانے والی دوسری چیز یہ تھی کہ انہوں نے انسان کے حقوق غصب کئے