خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 438 of 584

خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 438

خطبات ناصر جلد ہفتم ۴۳۸ خطبه جمعه ۱۵ ستمبر ۱۹۷۸ء کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اُسی روحانی فرزند نے جس کو اس زمانے کی روحانی جنگ کی کمان دی گئی ہے اُس نے کہا آگ سے ہمیں مت ڈراؤ۔آگ ہماری غلام بلکہ غلاموں کی غلام ہے۔اس لئے آگ تو بھڑکائی جائے گی صرف پاکستان میں نہیں دوسری جگہوں میں بھی یہ بھڑ کے گی لیکن جو آگ سے ڈریں گے نہیں ، جو لوگ تدبیر کو انتہا تک پہنچاتے ہوئے اور دعاؤں کو انتہا تک پہنچاتے ہوئے خدا تعالیٰ پر کامل تو گل رکھتے ہوئے آگے سے آگے بڑھتے چلے جائیں گے اسلام کے غلبہ کی خوشی کو وہ حاصل کریں گے اور اس سے بڑھ کر اور کیا خوشی ہو سکتی ہے کہ ہم یہ دیکھیں کہ اسلام ساری دنیا میں غالب آ گیا ہے۔پس دعائیں کریں۔تدبیر بھی کریں لیکن دعائیں کریں اور بہت دعائیں کریں۔ساری دنیا کے لئے دعائیں کریں۔جماعت کے سارے کاموں کے لئے دعائیں کریں۔جماعت کے سارے منصوبوں کے لئے دعائیں کریں اور اس خاکسار کے لئے بھی دعائیں کریں۔اللہ تعالیٰ مجھے انتہائی کام کی توفیق عطا کرے اور میرے سپر د جو ایک کام یہ ہے کہ میں آپ کے لئے قیادت بہم پہنچاؤں یعنی اُسوہ آپ کے لئے بنوں۔یہ قربانیاں ہیں یہ دو اور خدا تعالیٰ کے فضل سے اور اس کی توفیق سے مثلاً ۱۹۷۴ء میں جماعت کا کوئی شخص ایسا نہیں جو ان دنوں میں اتنی راتیں جاگا ہو جتنی میں جاگا ہوں، ہو نہیں سکتا۔میرے ارد گر د بھی لوگ تھے۔ایک پارٹی سو جاتی تھی اور ایک جاگ رہی ہوتی تھی اور ہر جاگنے والی پارٹی بعض دفعہ ہر آدھے گھنٹے کے بعد مجھے جگا دیتی تھی کہ فلاں جگہ سے فون آگیا ، وہاں گڑ بڑ ہو گئی۔فلاں جگہ سے فون آ گیا وہاں یہ ہو گیا وغیرہ وغیرہ۔وَلا فَخْر اور اس میں میں کوئی فخر نہیں کرتا کیونکہ میں بڑا عا جز انسان ہوں۔خدا تعالیٰ بڑی شان اور قدرتوں والا ہے۔وہ ایک ذرہ سے بھی کام لے سکتا ہے اور لیتا ہے۔آپ اس کی قدرتوں کو پہچانیں اور اپنی ذات پر بھروسہ نہ رکھیں اور میرے لئے دعا بھی کریں۔آج بھی مجھے ایک اور دوا کی ضرورت ہے۔میرے اوپر کے تین چار دانت ٹوٹ گئے اور ان کی جڑیں اندر رہ گئی ہیں۔آج پروگرام ہے ان کو نکالا جائے لیکن مسوڑھوں میں کچھ سوزش بھی ہے۔کل شام سے مجھے اینٹی بائیوٹک بھی ڈاکٹر ولی شاہ صاحب نے دینی شروع کی ہے۔اس کی وجہ سے مجھے سر میں بھی