خطباتِ ناصر (جلد 7 ۔1977ء، 1978ء) — Page 437
خطبات ناصر جلد ہفتم ۴۳۷ خطبه جمعه ۱۵ ستمبر ۱۹۷۸ء لنگٹن کو کہنے لگا کہ ہمارا کمانڈر کہتا ہے کہ ہماری ساری فوج یعنی ڈویژن کے ستر اسی فیصد فوجی مارے گئے ہیں اور تھوڑے سے رہ گئے ہیں، لڑائی جاری رکھیں یا ہتھیار ڈال دیں۔ولنگٹن نے اس سے پوچھا کہ تم کیا کہتے ہو اور تمہارا کمانڈرکیا کہتا ہے۔اس نے کہا ہم کہتے ہیں کہ لڑائی جاری رکھیں گے۔اس نے کہا میں بھی یہی کہتا ہوں اور آخری تین گھنٹے میں وہ جیت گئے اس لئے کہ اُن آخری تین گھنٹوں میں اُس نے اپنا منصوبہ جو خدا نے اس کے دل میں ڈالا تھا وہ کامیاب ہو گیا۔اُس نے آخری بازی لگا دی تھی یہ خیال کر کے کہ شکست نہیں کھانی ، بہر حال جیتنا ہے۔یہ صدی جس کے لئے میں کہتا ہوں کہ استقبال کرو غلبہ اسلام کی صدی ہے، بڑی بشارتیں ہیں اور جتنی بڑی بشارتیں ہوں اتنی بڑی قربانی دینی پڑتی ہے اور اتنا ہی لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ فِي كبد انسان رہین محنت ہوتا ہے۔اس بشارت کو پورا کرنے کے لئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بشارتیں ملی تھیں۔اس کا یہ مطلب تو نہیں تھا کہ حضرت موسی کی قوم کی طرح کہہ دیتے جاتو اور تیرا خدا جا کر لڑے ہم تو یہاں آرام سے بیٹھے ہیں۔جس نے بشارت دی ہے وہ خود ہی اس کو پوری کرے گا۔وہ تو نالائق تھے ، غیر تربیت یافتہ تھے مگر یہ تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قوت قدسیہ سے تربیت یافتہ تھے۔ٹوٹی ہوئی تلواریں ننگے پاؤں جسم کو ڈھانکنے کے لئے کپڑے نہیں۔زرہ بکتر تو علیحدہ رہی ان کی یہ حالت تھی کہ کسی کے پاس تلوار ہے تو نیزہ نہیں کسی کے پاس نیزہ ہے تو تلوار نہیں۔آواز آتی تھی چل پڑتے تھے۔دعائیں کرتے تھے اور خدا تعالیٰ کی قدرتوں پر تو گل رکھتے تھے۔پس یہ جس کو میں کہتا ہوں دوسری صدی یہ غلبہ اسلام کی صدی ہے اس میں ایسے حالات پیدا ہور ہے ہیں کہ آپ کو بھڑکتی ہوئی آگ میں سے گزر کر اس صدی کا استقبال کرنا پڑے گا۔یہ اچھی طرح یا درکھیں لیکن میرا دل تو مطمئن ہے اس لئے کہ میں یقین رکھتا ہوں اور علی وجہ البصیرت ہر جگہ یہ اعلان کر سکتا ہوں تلوار کے نیچے بھی اور ایٹم بم کے سامنے بھی کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام خدا کے پیارے اور بچے امتی نبی تھے اور حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے انتہائی عاشق اور خادم تھے۔اس آگ میں سے تو ہمیں گزرنا پڑے گا لیکن مجھے یہ تسلی ہے