خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 56
خطبات ناصر جلد ششم خطبه جمعه ۱۴ فروری ۱۹۷۵ء نا جائز رقمیں خرچ نہ کرنی پڑیں تو آمد کے لحاظ سے فرق ہوتا ہے مجموعی حیثیت سے تو فرق بہر حال زیادہ ہے۔اب اگلی فصل کے لئے سینتیس روپے من گندم کا اعلان کیا گیا تھا مگر اس وقت گو ہر جگہ تو نہیں لیکن بہت سی جگہوں پر گندم سینتیس روپے سے زیادہ قیمت پر بکنے لگ گئی ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ آئندہ جماعت کی بڑھتی ہوئی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے ہمیں زمیندارہ جماعتوں کو مستعد بنانا پڑے گا اور انہیں یہ احساس دلانا پڑے گا کہ وہ زمیندارہ آمد سے اللہ تعالیٰ کے سلسلہ کی ضرورتوں کو پورا کریں جو یکدم بڑھ گئی ہیں۔ہمارے صدر انجمن احمدیہ کے جو کارکن ہیں واقف زندگی ہیں یا نیم واقف ہیں، اُن کو گزارے مل رہے ہیں۔جو لوگ وقف نہیں کرتے اُن پر مجھے حیرت آتی ہے کہ تم گزارے لیتے ہو واقفین جتنے مگر وقف کرنے سے گریز کرتے ہو۔بہر حال کارکنان کو گزارے ملتے ہیں مگراب گندم کی قیمت بڑھ گئی ، کپڑے کی قیمت بڑھ گئی ، گھی کی قیمت بڑھ گئی ، دودھ کی قیمت بڑھ گئی، لکڑی کی قیمت بڑھ گئی علی ھذا القیاس۔چیزوں کی قیمت اتنی بڑھ گئی کہ گویا آسمان پر پہنچ گئی جس سے کارکنان کو بڑی تنگی اٹھانی پڑی۔حکومت نے اپنے کارندوں وغیرہ کے لئے پچاس روپے ماہوار الاؤنس کے حساب سے چھ سوروپے سالانہ کا اضافہ کر دیا۔اگر پچاس روپے من گندم ہو تو بارہ من گندم بنتی ہے جماعت نے اپنے کارکنان کے لئے اس الاؤنس کی بجائے ایک چوتھائی گندم کی رعایت دے رکھی ہے۔گندم کی ضرورت کا یہ حصہ سلسلہ کی طرف سے دیا جاتا ہے اور باقی کے لئے قرض دیا جاتا ہے۔اس سے اُن کو کافی مددمل جاتی تھی لیکن اب میرے سامنے جو حالات رکھے جا رہے ہیں اُن کے پیش نظر میں سمجھتا ہوں کہ ہم اپنے کارکنان کو ایک چوتھائی دے کر اُن کی جو کم سے کم ضرورتیں ہیں وہ پوری نہیں کر سکتے شاید ہمیں نصف گندم مفت دینی پڑے۔اس طرح ایک کارکن کو پچاس روپے اضافہ الاؤنس کی نسبت اس کی گندم کی ضرورت کی ایک چوتھائی یا نصف رعایت کا اصول زیادہ معقول نظر آتا ہے۔اس لئے کہ اگر پچاس روپے کا اضافہ کیا جائے تو ایک کارکن جس کی ابھی شادی نہیں ہوئی اور وہ اکیلا ہے تو قانون کہتا ہے کہ اسے بھی ہم پچاس روپے ماہوار کے حساب سے چھ سو روپے سالانہ دیں گے اور ایک ایسا کارکن جس کے