خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 55 of 664

خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 55

خطبات ناصر جلد ششم ۵۵ خطبه جمعه ۱۴ فروری ۱۹۷۵ء کر رہا ہوں کیونکہ شہروں میں زیادہ تر تجارت پیشہ احباب ہوتے ہیں لیکن بعض شہر ایسے بھی ہیں جو سستی دکھا رہے ہیں پتہ نہیں کیوں؟ کچھ پتہ تو ہمیں بھی ہے اور وہ یہ کہ ان کے عہد یدارست ہوتے ہیں مثلاً لائلپور ہے یہاں کی جماعت کو مالی لحاظ سے بڑی تکلیف اٹھانی پڑی لیکن جہاں تک مجھے علم ہے اُن کی آمد کے بجٹ پر کوئی اثر نہیں پڑا اور یہ بڑی ہمت کی بات ہے کہ اتنی بڑی مظلوم قربانیاں دینے کے بعد اور اس قسم کی مظلومانہ زندگی گزارتے ہوئے بھی اُنہوں نے اپنے آپ کو مالی قربانی کے معیار سے گرنے نہیں دیا۔اس کے مقابلہ میں سیالکوٹ شہر کی جماعت ہے شاید فسادات کے دنوں میں تھوڑی سی قربانی ان کو بھی دینی پڑی ہوا اور تھوڑا سا ظلم اُن کو بھی سہنا پڑا ہو لیکن لائلپور کے مقابلہ میں بہت کم۔اس کے باوجود میں حیران ہو گیا جب مجھے یہ رپورٹ ملی کہ ابھی تک اُنہوں نے اپنے بجٹ کا صرف بارہ یا پندرہ فیصد اللہ کی راہ میں پیش کیا ہے۔اس قسم کے بعض اور قصبے بھی ہوں گے اُن کو اپنا محاسبہ کرنا چاہیے انہیں باہمی مشورے کرنے چاہئیں۔اپنے اپنے حصہ کا بجٹ پورا کرنے کا عزم کرنا چاہیے اُن کو اپنی ہمتوں کو بلند کرنے کے فیصلے کرنے چاہئیں۔اُن کے دل میں یہ جذبہ پیدا ہونا چاہیے کہ وہ بھی اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو اسی طرح حاصل کریں گے جس طرح لائل پور یا سرگودھا والے دوست حاصل کر رہے ہیں۔چندہ دہندگان کی تیسری قسم زراعت پیشہ احباب کی ہے۔ایسے اگر تفصیل میں جائیں تو شاید اور بھی بعض چھوٹی چھوٹی قسمیں بن جائیں گی لیکن چندہ دینے والوں کی موٹی موٹی تین قسمیں ہیں۔ایک ملازمت پیشہ احباب ہیں جن کا میں نے ذکر کر دیا ہے دوسرے تجارت پیشہ احباب ہیں اس میں صنعت و حرفت بھی آجاتی ہے کیونکہ یہ بھی تجارتی اصول کے ساتھ بندھی ہوئی ہے تیسری قسم زمیندار احباب کی ہے اور خدا تعالیٰ کے فضل سے ہماری زمیندارہ جماعتیں زیادہ ہیں۔جہاں ملازمت پیشہ آدمی کو پندرہ روپے من سے پچیس روپے من گندم ہو جائے تو تکلیف اٹھانی پڑتی ہے وہاں زراعت پیشہ آدمی یعنی زمیندار کو فائدہ پہنچتا ہے۔ویسے یہ بھی ٹھیک ہے کہ زمیندار کے کچھ اخراجات بڑھ جاتے ہیں لیکن اتنے نہیں بڑھتے جتنا کہ قیمت کے لحاظ سے اُسے فائدہ پہنچ جاتا ہے۔اگر ہمارے ملک میں بڑی دیانتداری ہو اور کسی کو اپنے حقوق کے حصول میں