خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 57 of 664

خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 57

خطبات ناصر جلد ششم ۵۷ خطبه جمعه ۱۴ فروری ۱۹۷۵ء دس لواحقین ہیں گویا دس پیسٹ اس کی کمائی سے بھرتے ہیں یا بھر نے چاہئیں اس کو بھی چھ سو روپے سالا نہ دیں گے۔قانون کے متعلق لوگ کہتے ہیں کہ وہ تو اندھا ہوتا ہے لیکن خدا کے سلسلے تو اندھے نہیں ہوتے۔دس افراد کے خاندان کا مطلب یہ ہے کہ اس کو فی کس آدھ سیر روزانہ کے حساب سے سالانہ پنتالیس من گندم کی ضرورت ہوتی ہے۔اکیلے آدمی کو ساڑھے چارمن کی ضرورت پڑتی ہے پینتالیس من میں سے ہم اپنے کارکن کو 11 من رعایت دیتے تھے اور اگر اگلے سال کے لئے نصف کر دیں تو یہ رعایت ۲۲ من بن جاتی ہے اور یہ چھ سوروپے سالانہ کی امداد کی نسبت بہت مناسب اور فائدہ مند ہے کیونکہ اس رعایت کے ذریعہ اُسے ۲ ہزار سے زائد کی گندم مل جائے گی۔۳۷ روپے من کا حساب رکھا جائے تب بھی بہت فائدہ ہے۔پس ایک تو جس کی جتنی ضرورت ہے اس اصول کے مطابق مدد دی جاتی ہے اور دوسرا اصول یہ ہے کہ ایک قانون بنا دیا جائے اور اس کے مطابق رعایت دی جایا کرے۔کارکنان کو گندم کی رعایت تو ایک حصہ بن گیا ہے اس کے علاوہ موسم سرما کی امداد ہے کیونکہ گرمیوں کی نسبت موسم سرما زیادہ خرچ کرواتا ہے گرم کپڑے بنوانے پر زیادہ خرچ ہو جاتا ہے اس لئے کارکنان کو زائد رقمیں بھی دی جاتی ہیں۔پس اس لحاظ سے خرچ اگلے مالی سال میں بہت بڑھ جائیں گے۔ہوسکتا ہے کہ سائر والے حصہ کو چھوڑ کر صرف تنخواہوں والے حصہ میں ۱٫۴ کی بجائے نصف گندم دے کر مہنگائی کی وجہ سے ۴۔۵ لاکھ روپے زائد خرچ کرنے پڑیں لیکن عام معمول کے مطابق ہر سال جو بجٹ بڑھتا ہے وہ سات آٹھ لاکھ روپے نہیں ہوتا بلکہ لاکھ ڈیڑھ لاکھ روپے کی بڑھوتی ہوتی ہے لیکن آئندہ سال کے لئے مہنگائی کی وجہ سے سال رواں کے بجٹ کے مقابلہ میں ممکن ہے چار پانچ لاکھ روپے زائد صرف کارکنان کو دینے پڑیں گے اور یہ خرچ ضروری ہے اس کو ہم دو طریق سے پورا کر سکتے ہیں ایک یہ کہ جماعت پہلے سے زیادہ مالی قربانیاں دے اور دوسرے یہ کہ ہم اپنے کارکنان کی تعداد پہلے سے کم کر دیں۔ویسے ایک حصہ ایسا ہے جسے کم کیا بھی جا سکتا ہے مثلاً بہت سے دوست پنشن کی عمر کو پہنچ چکے ہوئے ہیں وہ کام کر رہے ہیں۔اگر کارکنان کی تعداد کم کرنی پڑے تو پہلے اُن کو کم کرنا پڑے گا۔پنشن پانے کی عمر والے اکثر دوست ایسے ہوتے