خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 54 of 664

خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 54

خطبات ناصر جلد ششم ۵۴ خطبه جمعه ۱۴ رفروری ۱۹۷۵ء قسموں میں بٹے ہوئے ہیں۔پہلی قسم ملازمت پیشہ احباب کی ہے جن کی آمدنیاں بندھی ہوئی ہیں۔دوسری قسم تجارت پیشہ احباب کی ہے جن کی آمدنی کا انحصار تجارت میں نفع پر ہوتا ہے نفع زیادہ بھی ہوتا ہے معمول کے مطابق بھی اور بعض دفعہ گھاٹے کا بھی امکان ہوتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ فضل کرتا ہے۔ہر سال بحیثیت مجموعی جماعت کے مالوں میں ہمیں بہت برکت نظر آتی ہے اور تختار احباب پہلے سے بڑھ چڑھ کر مالی قربانی میں حصہ لیتے ہیں ان کی آمد میں بھی فرق پڑا ہے پہلے آہستہ آہستہ پڑ رہا تھا لیکن اس سال قیمتیں بڑھ جانے کی وجہ سے بہت نمایاں فرق پڑا ہے۔قیمتیں بڑھ جانے کا ایک نتیجہ تو یہ ہے کہ جن لوگوں کی بندھی ہوئی آمدنیاں ہوتی ہیں ، ان کو تکلیف ہوتی ہے مثلاً ایک شخص ملازم ہے اس کے گھر میں پانچ چھ افراد کھانے والے ہیں۔تین سو روپے اس کی تنخواہ ہے گندم سترہ روپے من بکتی ہے۔وہ نئے سال میں داخل ہوتا ہے تو گندم کی قیمت بڑھ کر پچیس روپے من ہو جاتی ہے بازار میں اُسے عملاً ( مختلف جگہوں کے متعلق مختلف رپورٹیں ہیں ) کہیں پینتیس روپے من ملتی ہے۔کہیں چالیس روپے من، کہیں پینتالیس روپے اور کہیں پچاس رو پے من تک بک رہی ہے چنانچہ قیمت میں اس زیادتی کا تکلیف دہ اثر ملازمت پیشہ احباب پر پڑتا ہے لیکن اس تبدیلی سے جو افراط زر کے نتیجہ میں بھی پیدا ہوتی اور بعض اور وجوہات بھی ہوتی ہیں، تجارت پیشہ احباب کی آمدنیاں بڑھ جاتی ہیں ایسے احباب زیادہ تر شہروں میں ہوتے ہیں۔بہت سے شہر ہیں جہاں کی جماعتیں بڑی مالی قربانی دینے والی ہیں مثلاً کراچی ہے۔کراچی کی جماعت بحیثیت مجموعی بڑی قربانی دیتی ہے وہاں زیادہ تر تجارت پیشہ احباب ہیں اور بہت سے ملازم بھی ہیں۔ملازمین کی تو بندھی ہوئی تنخواہ ہوتی ہے۔جماعت کی مجلس شوری نے جو فیصلہ کیا ہوتا ہے اس کے مطابق سولہواں حصہ ادا کرتے ہیں اس کے علاوہ بھی بعض دوسرے چندے ہوتے ہیں۔غرض کراچی شہر کی جماعت بڑی قربانی دے رہی ہے۔لاہور ایک لمبا عرصہ غفلت میں گزارنے کے بعد اب اُبھر آیا ہے الْحَمدُ للهِ۔لاہور کی جماعت اب اپنے بجٹ کو پورا کر رہی ہے اسی طرح سرگودھا اور لائل پور کی جماعتیں ہیں گو یہ کراچی اور لاہور کی طرح بڑی بڑی جماعتیں تو نہیں مگر یہ بھی بڑی قربانی دینے والی جماعتیں ہیں۔میں سرگودھا اور لائلپور شہر کی بات