خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 538 of 664

خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 538

خطبات ناصر جلد ششم ۵۳۸ خطبہ جمعہ ۱۳ /اگست ۱۹۷۶ء جو اس قلعہ میں پناہ لیتا ہے۔اللہ کرے کہ تم بدی کو چھوڑ کر نیکی کی راہ اختیار کر کے اور کجی کو چھوڑ کے راستی پر قدم مار کر اور شیطان کی غلامی سے آزاد ہو کر اپنے رب عظیم کے بندہ مطیع بن کر اس حصن حصین اس مضبوط روحانی قلعہ کی چار دیواری میں پناہ اور امان پاؤ۔خدا کرے کہ تمہارے نفس کی دوزخ کلی طور پر ٹھندی ہو جائے اور اس لعنتی زندگی سے تم بچائے جاؤ جس کا تمام ہم و غم محض دنیا کے لئے ہوتا ہے۔تم اور تمہاری نسلیں شرک اور دہریت کے زہریلے اثر سے ہمیشہ محفوظ رہیں۔خدائے واحد یگانہ کی روح تم میں سکونت کرے اور اس کی رضا کی خاص تجلی تم پر جلوہ گر ہو۔پرانی انسانیت پر ایک موت وارد ہو کر ایک نئی اور پاک زیست تمہیں عطا ہو اور لیلتہ القدر کاحسین جلوہ اس عالم میں بہشتی زندگی کا تمام پاک سامان تمہارے لئے پیدا کر دے۔اے ہمارے رب! تو ہمیں مسیح موعود و مہدی معہود علیہ السلام کے انصار میں سے بنا اور اس قیامت خیز ہلاکت اور عذاب سے ہمیں محفوظ رکھ جس سے تو نے ان لوگوں کو ڈرایا ہے جو اپنا تعلق تجھ سے تو ڑ چکے ہیں جو تجھ سے دور ہو چکے ہیں جو تجھے بھول چکے ہیں۔اے ہمارے خدا! اپنی طرف تبتل اور انقطاع اور رجوع کی توفیق ہمیں بخش اور ہم پر رجوع برحمت ہو۔“ اس پراثر خطبہ کے دوران احباب پر محویت کا ایک خاص عالم طاری تھا انہیں معلوم تھا کہ حضور ایدہ اللہ تعالیٰ کے سب سے پہلے ( یعنی موجودہ ) دورہ امریکہ کا یہ آخری خطبہ جمعہ ہے جس سے مستفیض ہونے کی انہیں سعادت میسر آ رہی ہے۔وہ سوچ رہے تھے کہ یہ خدا ہی کو معلوم ہے کہ دن اور بہار کی یہ کیفیت اب پھر کب اُن کے دلوں کو مسرت و شادمانی کے گہوارہ میں تبدیل کرے گی۔اپنے اس شدید احساس کے زیر اثر وہ ہمہ تن گوش اور ہمہ تن اشتیاق بنے ہوئے تھے۔ان کی نظریں حضور کے رخ انور پر جمی ہوئی تھیں۔کان حضور کی آواز گوش نواز کی سماعت سے بہرہ اندوز ہورہے تھے اور وہ حضور کی بیش بہا نصائح سے اپنے ہر گوشتہ دل کو سجا کر انہیں حقائق و معارف اور علوم و عرفان کے خزینوں میں تبدیل کر رہے تھے۔جب حضور ایدہ اللہ نے خطبہ کے