خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 537 of 664

خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 537

خطبات ناصر جلد ششم ۵۳۷ خطبہ جمعہ ۱۳ /اگست ۱۹۷۶ء تمہارے دل اور تمہارے سینہ کو چھوڑ کر بھاگ جائے اور تذلل اور فروتنی اور انکسار اور بے نفسی کے نقوش تمہارے اس سینہ کو اپنے رب کے استقبال کے لئے سجائیں اور پھر میرا اللہ اس میں نزول فرمائے اور اسے تمام برکتوں سے بھر دے اور تمہارے دل اور تمہاری روح کو ہر نور سے منور کر دے اور خدا کرے کہ بنی نوع کی ہمدردی اور غمخواری کا چشمہ تمہارے اس سینہ صافی سے پھوٹے اور ایک دنیا تمہاری بے نفس خدمت سے فائدہ اٹھائے۔خدا کرے کہ عاجزانہ دعاؤں کے تم عادی رہو اور تمہاری روح ہمیشہ اللہ رَبُّ الْعَلَمِينَ کے آستانہ پر گری رہے اور اللہ ، اس کی رضا اور اس کے احکام کی اتباع ہر ایک پہلو سے تمہاری دنیا پر تمہیں مقدم ہو جائے۔تم خدا کی وہ جماعت ہو جسے اسلام کے عالمگیر غلبہ کے لئے پیدا کیا گیا ہے اور اس مہم کو کامیاب انجام تک پہنچانے کی راہ میں تمہیں ہزار دکھ اور اذیتیں سہنی ہوں گی اور ہر قسم کے ابتلاء اور آزمائشوں میں تم کو ڈالا جائے گا۔دعا ہے کہ ہر امتحان میں تم کامیاب رہو اور ہر آزمائش کے وقت رب کریم سے ثبات قدم کی تم توفیق پاؤ۔بس اسی کے ہو جاؤ وہ مہربان آقا تمہیں پاک اور صاف کر دے اور پیارے بچے کی طرح تمہیں اپنی گود میں لے لے اور ہر نعمت کے دروازے تم پر کھولے اور تمام حسنات کا تم کو وارث بنائے۔خدا کرے کہ آسمان کے فرشتے تمہیں یہ مژدہ سنائیں کہ اللہ تعالیٰ نے تمہاری عاجزانہ دعاؤں کو سنا اور تمہاری حقیر کوششوں کو قبول کیا اور اپنے قرب اور اپنی رضا کی جنتوں کے دروازے تمہارے لئے کھول دیئے ہیں۔پس آؤ اور اللہ تعالیٰ کی جنتوں میں داخل ہو جاؤ۔ربُّ الْعَلَمِينَ نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک عظیم روحانی فرزند کو اس زمانہ کا حصن حصین بنایا ہے۔چوروں ، قزاقوں اور درندوں سے آج اسی کی جان محفوظ ہے